حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 295 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 295

حیات احمد ۲۹۵ مقدمات کیلئے فیصلہ برحق کی دعا جلد اول حصہ دوم حضرت مسیح موعود کا معمول شروع سے یہ تھا کہ آپ سنن ونوافل گھر پر پڑھا کرتے تھے۔اور فرض نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔یہ التزام آپ کا آخر وقت تک رہا۔کبھی کبھی جب مسجد میں بعد نماز تشریف رکھتے تو سنتیں مسجد میں پڑھا کرتے تھے۔ان ایام میں جبکہ آپ کو مقدمات کی پیروی کے لئے حضرت والد صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں جانا پڑتا تو آپ کا یہ بھی معمول تھا کہ جس رات کی صبح کو آپ کو تاریخ مقدمہ پر جانا ہوتا تو عشاء کی نماز بڑی مسجد میں پڑھ چکنے کے بعد کہتے کہ :۔مجھے کو مقدمہ کی تاریخ پر جانا ہے۔میں والد صاحب کے حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتا۔دعا کرو کہ اس مقدمہ میں حق حق ہو جاوے اور مجھے مخلصی ملے۔میں نہیں کہتا کہ میرے حق میں ہو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ حق کیا ہے؟ پس جو اس کے علم میں حق ہے اس کی تائید اور فتح ہو۔“ اس دعا کے لئے آپ خود بھی ہاتھوں کو خوب پھیلاتے اور دیر تک دعا مانگتے اور تمام حاضرین بھی دعا میں شریک رہتے۔دعا کے الفاظ اپنی حقیقت اور دعا کرنے والے کے دلی ارادوں اور جذبات کی ترجمانی کر رہے ہیں۔قانونی امتحان کی تیاری محض تقوی کی رعایت سے چھوڑ دی قانونی امتحان جب آپ نے پہلی مرتبہ دیا۔تو اس وقت آپ کی غرض و مقصود اس پیشہ سے روپیہ کمانا نہ تھا۔بلکہ آپ اہل مقدمات کی بے کسی اور مظلومی کو دیکھتے تھے کہ بعض اوقات قانون کی ناواقفیت کے باعث وہ ان برکات اور مفاد سے محروم ہو جاتے ہیں۔جو قانون نے ان کے لئے عطا کر رکھے ہیں۔محض اپنے ہم جنسوں کی بھلائی اور مدد کے خیال نے آپ کو اس طرف متوجہ کیا تھا۔چنانچہ ایک پرانے خط کے چند جملوں سے ظاہر ہوتا ہے :-