حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 294 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 294

حیات احمد ۲۹۴ جلد اول حصہ دوم کے اخراجات کے لئے ایک معقول رقم جایا کرتی تھی۔جب وہاں سے ترک ملازمت کر کے آپ قادیان آگئے۔تو کچھ عرصہ کے بعد ریاست کپورتھلہ کی طرف سے وہاں کے صیغہ تعلیم کی افسری کے لئے آپ کو بلایا گیا۔خاندانی حالات کے ضمن میں بیان کر آیا ہوں۔کہ جن ایام میں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب بیگو وال میں تھے تو مہاراجہ کپورتھلہ کی خواہش تھی کہ آپ مستقل طور پر وہاں رہ جائیں اور وہ ایک معقول جا گیر آپ کو دینا چاہتا تھا مگر جناب مرزا غلام مرتضی صاحب نے انکار کر دیا تھا۔ریاست کے اعلیٰ عہدہ داروں کے ساتھ آپ کی راہ و رسم تھی اور وہ چاہتے تھے کہ حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے صاحبزادوں میں سے ہی کوئی وہاں رہے۔مرزا غلام قادر صاحب چونکہ سرکاری ملازم ہو چکے تھے اس لئے ریاست کپورتھلہ نے حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کو بلانا چاہا مگر حضرت مسیح موعود نے اس عزت و حکومت کی نوکری سے انکار کر دیا اور حضرت والد صاحب قبلہ کی خدمت میں عرض کیا کہ:۔میں کوئی نوکری کرنی نہیں چاہتا ہوں۔دو جوڑے کھڈ ر کے کپڑوں کے بنا دیا کرو۔اور روٹی جیسی بھی ہو بھیج دیا کرو۔“ اس سے آپ کی سیر چشم اور قانع طبیعت کا پتہ صاف ملتا ہے کہ دنیا کی حرص و آز ہوتی (نعوذ باللہ ) یا آپ شہرت اور حکومت کے دلدادہ ہوتے تو بہتر سے بہتر موقع آپ کے سامنے پیش آئے مگر آپ کو کبھی ان باتوں نے تحریک نہیں کی۔آپ کی ضروریات اور خواہشات کا دائرہ بہت ہی محدود تھا۔اس وقت بھی جبکہ آپ کے سامنے دواڑھائی سو روپیہ ماہوار کی ملازمت پیش ہوتی ہے اور حضرت مرزا غلام احمد صاحب جیسی خوبی اور قابلیت کا انسان جو بڑی ترقی کرنے کی استعداد رکھتا تھا اگر دنیا کا دلدادہ ہوتا تو بڑی خوشی سے منظور کرتا۔مگر وہ برخلاف اس کے انکار کرتے ہیں اور اپنی ضروریات کو کپڑے کے دو جوڑوں اور معمولی روٹی میں محدود کر دیتے ہیں۔جب حضرت والد صاحب قبلہ نے آپ کا یہ فیصلہ سنا۔تو نہایت رقتِ قلب کے ساتھ ایک شخص میاں غلام نبی کو مخاطب کر کے فرمایا کہ میاں غلام نبی میں خوش تو اسی پر ہوں۔کچی راہ تو یہی ہے جس پر یہ چل رہا ہے۔