حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 293 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 293

حیات احمد ۲۹۳ جلد اول حصہ دوم رضاء الہی کے لئے اس وقت کی جبکہ ایک عالم اُن سے بیزار اور ان کا مخالف تھا۔اور پھر محض خدا کی رضا ہی کے لئے علیحدگی اس وقت اختیار کی جبکہ ایک دنیا ہندوستان کی مولوی محمد حسین صاحب کی مذاح اور گرویدہ ہو رہی تھی۔اور اس کو اپنی تحریروں اور اثر پر اس قدر ناز تھا کہ وہ نہایت نخوت کے ساتھ یہ دعویٰ شائع کرتا ہے کہ میں نے ہی اس کو اونچا کیا اور میں ہی گراؤں گا۔اس میں کچھ شک نہیں کہ اگر مادی اسباب کا نتیجہ حضرت مسیح موعود کی کامیابی ہوتی۔اور وہ کسی شخص کی تائید یا انکار پر مبنی ہوتی تو مولوی محمد حسین صاحب کو اپنے اس دعوئی میں ضرور کامیابی ہو جاتی۔کیونکہ اس کا اثر اور رسوخ بہت بڑھ کر تھا۔علماء ہند و پنجاب پر وہ اپنی قابلیت اور علمیت کا سکہ بٹھا چکا تھا۔جو شہرت اور عزت اسے حاصل تھی وہ ایسے دعوی کی محرک ہو سکتی تھی۔مگر خدا تعالیٰ کا مقابلہ کون کر سکتا ہے اور خدا تعالیٰ کے کاموں کو کون روک سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود کی مخالفت اور عداوت نے اس کے تمام اثر اور رسوخ کو باطل کر دیا۔آج جب اُن پرانے واقعات کی یاد تازہ ہو رہی ہے اور یہ حالات ایک مستقل تالیف کی صورت اختیار کر رہے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب بھی ابھی تک زندہ ہیں۔اس کے پہلے حالات اور موجودہ حالات کو دیکھنے والے بھی زندہ ہیں۔وہ دیکھتے اور جانتے ہیں کہ کون گرا اور کون اونچا ہوا؟ میرا مقصد اس بیان سے صرف یہ دکھانا ہے کہ کسی رواداری اور پاس خاطر یا علمی رعب و وقعت نے حضرت مسیح موعود کو اس وقت مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثہ کرنے سے نہیں روکا ور نہ وہ وقت تو ایسا تھا کہ اگر یہ کوئی بات بھی منہ سے نکالتے تو گل بٹالہ بالا تفاق ان کی تائید کرتا۔پوری مخالفت کے ایام میں اس کی تائید کرنا اور پوری شہرت اور اثر کے ایام میں میدانِ مقابلہ میں نکلنا یہ دونوں فعل صرف اخلاص فی الدین کا نتیجہ تھے !!! ریاست کپورتھلہ کے سرشتہ تعلیم کی افسری سے انکار کر دیا سیالکوٹ کی ملازمت کے دوران میں وہاں کی تنخواہ ہر چند آپ کی مختصر ضروریات کے لئے تو کفایت کر سکتی تھی بلکہ شائد زیادہ ہو۔مگر آپ کی عادت میں دوسروں کے ساتھ سلوک مرقت تھا۔اور حتی الوسع بعض مساکین آپ کے دستر خوان سے کھانا کھاتے تھے اس لئے قادیان سے آپ