حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 292 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 292

حیات احمد ۲۹۲ جلد اول حصہ دوم غرض زندگی کی اس منزل میں ہیں جہاں ایک دنیا دار کے لئے بڑی امیدیں ہوتی ہیں۔اور عمر کا وہ حصہ ہے جبکہ ہر قسم کے خیالات اور خود داری اور خودنمائی کے جذبات پورے جوش اور زور میں ہوتے ہیں۔اپنی بات کی بیچ اور ضد ہوتی ہے۔ان تمام حالات میں حضرت مرزا صاحب ایک مشہور مولوی سے مباحثہ کیلئے جاتے ہیں۔اور اس کی تقریرین کر اسے صحیح پا کر اس کی تصدیق کر دیتے ہیں۔نہ تو خیال آتا ہے کہ لوگ کیا کہیں گے اور نہ اس بات کی پرواہ کی جاتی ہے کہ اس شخص کی عام مخالفت اس کے بعض عقائد کی وجہ سے ہو رہی ہے۔اور میں اپنے بیان سے اس کی تائید کر رہا ہوں۔میرے خلاف بھی ایک طوفان بے تمیزی پیدا ہو جائے گا۔پس آپ غور کریں کہ ان حالات میں جبکہ حنفیوں اور غیر مقلدوں میں سخت معرکہ کی جنگ جاری تھی۔اور کسی اہلحدیث کی تائید سے بے انتہا بلاؤں کو خرید لینا ہوتا تھا حضرت مرزا صاحب مولوی محمد حسین صاحب کی تائید کر دیتے ہیں۔بحالیکہ ان سے مباحثہ کے لئے بلائے گئے تھے۔یہ خیال اور وہم نری حماقت ہوگی کہ مولوی ابو سعید صاحب کا علم یا زور یہاں آپ کے خاموش کرا دینے کا موجب ہو سکا ہوگا۔ممکن تھا کہ یہ وہم کوئی وقعت رکھتا اور بعد میں آنے والے واقعات نے اسے مولوی محمد حسین صاحب سے مباحثات بالمشافہ اور بذریعہ تحریروں کے نہ کرائے ہوتے اور اس کے خطرناک مقابلہ میں یہ جوان محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ آیا ہوتا۔اور کبھی اور کسی حال میں اس پر ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس کی علمیت اور اثر کا خوف مؤثر نہیں ہو سکا۔یہ واقعات ہیں اور کوئی ان کی تکذیب نہیں کر سکتا۔پس ایسی حالت میں یہ خیال محض نادانی ہے بلکہ اس کی تہہ میں ایک اور صرف ایک ہی بات تھی اور وہ اخلاص فی الدین تھا۔واقعات بھی اسی کی تائید کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی وحی نے بھی اس پر صاد کیا ہے۔اور پھر اب اس زمانہ میں تو اس وحی الہی کے واقعات نے پھر تائید اور تصدیق کی ہے۔جبکہ دیکھا گیا کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے عملی رنگ میں برکت ڈھونڈ رہے ہیں۔یہ امر بھی قارئین کرام کی زیر نظر رہنا چاہئے کہ مولوی محمد حسین صاحب کی تائید آپ نے محض