حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 285 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 285

حیات احمد ۲۸۵ جلد اول حصہ دوم کیونکر آوے۔ان حضرات کے فہم پر ترس کھا کر مَا عَلِمَ ضِمُنًا (یعنی جو ضمناً معلوم ہوا) کی تصریح اور اس جواب کی بالا ختصار تقریر کی جاتی ہے۔(۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب وقت انگریزی خوان نہ تھے اس لئے آپ کو انگریزی زبان میں الہام نہ ہوا۔وہ لوگ عربی زبان تھے۔لہذا ان کو عربی زبان میں ہی قرآن نے اعجاز دکھایا اس اعجاز کے علاوہ صدہا معجزات اور بھی ان کو دکھائے جو اس وقت ان لوگوں کے مناسب حال تھے۔(۲) اور آنحضرت کے زمانہ میں اقوام غیر کی زبان نہ سیکھنے کو بُرا نہ سمجھا جاتا تھا بلکہ آنحضرت نے زید بن ثابت کو عبرانی زبان سیکھنے کا خود حکم دیا ہے۔چنانچہ بخاری میں صفحہ ۱۰۶۸ پر منقول ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اگر ایسے متعصب ہوتے (جو ہمارے زمانہ میں موجود ہیں ) تو ضرور آنحضرت بھی اقوام غیر کی زبانوں میں ملہم و مخاطب ہوتے اور ابطال خیال متعصبین زمانہ حال کے لئے وہی حکم جو زید بن ثابت کو ارشاد ہو چکا ہے کافی ہے۔اور آیات قرآن شریف وَعَلَّمَ ادَمَ الْأَسْمَاء (البقرة :۳۲) اور وَمِنْ آلته۔۔۔۔وَاخْتِلَافُ الْسِنَتِكُمُ (الرّوم:۲۳) وغیرہ میں بھی اس خیال کا ابطال پایا جاتا ہے۔بعض انگریزی خوان ان الہامات انگریزی پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ان کی انگریزی اعلیٰ درجہ کی فصیح نہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اعلیٰ درجے کی فصاحت تو قرآن شریف ہی کا معجزہ ہے۔جو بجز قرآن کسی مسلم الثبوت کتاب آسمانی میں بھی نہیں پایا جاتا۔پھر ان الہامات میں اعلیٰ درجہ کی فصاحت نہ پائی گئی تو کونسا محل اعتراض ہے۔یہاں صرف غیر زبان میں الہام ہونا ہی ( معمولی طور پر کیوں لے خدا تعالیٰ کی قدیم عادت ہے کہ ہر زمانے میں اس قسم کے معجزات و خوارق منکرین کو دکھاتا ہے جو زمانہ کے لئے مناسب ہوں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں سحر کا بڑا زور تھا۔اس لئے ان کو ایسا معجزہ ( لاٹھی کا سانپ بن جانا وغیرہ ) جو سحر کا ہم جنس یا ہم صورت تھا۔اور پھر وہ سحر پر غالب آیا۔