حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 264
حیات احمد ۲۶۴ جلد اول حصہ دوم (۱۲) ان مقامات میں مبالغہ آمیزی کرنا عوام الناس کا لازمہ ہے۔(۱۳) اگر چہ عقیدہ ثانی کا نتیجہ بت پرستی ہے مگر خدائے کامل الصفات خالق مطلق کو (۱۴) معدوم الصفات سمجھنا بھی بت پرستی سے کم نہیں۔لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ وَاحِدًا وَاحِدًا ( ان میں سے ہر ایک پر اللہ کی لعنت ہو ) (۱۵) جہاں تک ہم سے یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ بت پرستی کی تعریف کیا ہے اور ان لوگوں کو کونسی چیز بت پرست بناتی ہے، لازم ہے کہ ان امور کو ہم بیان کریں۔جاننا چاہیے کہ عبادت ، عقاید کا نتیجہ ہے اور اہل حق کے عقاید یہ ہیں کہ خدا ایک ہے اور اللہ جل شانہ کی صفات ہمیشہ سے قائم و دائم ہیں یعنی نہ اسکی صفات میں تبدل ہے نہ ہی تغیر اور نہ ابتدا ہے اور نہ انتہا ہے۔سچا اور حقیقی خدا ابدی اور ازلی ہے کوئی مخلوق نہیں کہ متولد ہو اور ایسی صفات سے برتر ہے جن کو تسلیم کرنے سے ہمارا دل نفرت کرے۔اسکی صفات تو ہمارے دل کا قرار ہیں اور ہمارا دل اس کی صفات سے مانوس ہے۔وہ ازل سے واحد ہے کونسا دل ہے جو اسکی وحدت کا منکر ہے۔ابد سے وہ ایک ہے اور کونسا دل ہے جو اسکی تثلیث کا اقرار کرتا ہے۔اے بے خبر انسان راہ راستی سے باہر نہ جا۔اپنے دل کی خواہش کو دیکھ کہ اُس پر کیا تحریر کیا ہے۔جب تو اپنے دل کے آئینہ پر غور کرے گا تو بتدریج پاکیزگی کو حاصل کر لے گا۔جس وقت وہ اپنے آپ کو ظاہر کرے گا تو کون ہے جو اس کا انکار کر سکتا ہے اور جب اس نے انسان کی فطرت حقیقی پر جلوہ کیا تھا تو اس نے اسکی الوہیت کا اقرار کیا اور اسکے کلام کو سنا اور وہ کلام دلوں میں دس بیٹھا اور دلوں میں گھر کر گیا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جب بھی انسان اپنے دل کے ارادہ حقیقی کو پالے تو وہ جان لے گا کہ جب تک وہ اس واحد لطیف کا اقرار نہیں کرتا (اس وقت تک) گناہ گار ہے۔لیکن چونکہ انہوں نے اپنی عقل کا استعمال چھوڑ دیا ہے اور وہم اور خیال نے اسکی پیروی میں جگہ لے لی اور اکثر امور کے سمجھنے سے عاجز وقاصر ہوکر ان کی عقل محض بصارت کی حد تک ہو کر رہ گئی تھی تاہم وہم و خیال کی تاریکی میں مبتلا ان لوگوں کے لئے خدائے کریم نے اپنی