حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 263
حیات احمد بننے والے۔مترجم ) ایک پیکر کو ۲۶۳ جلد اول حصہ دوم (۱۰) اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتے ہیں تاکہ اویسہ کو پراگندگی سے روکیں اور دل جو خواہش دید رکھتا ہے اس آرزو کی تکمیل کریں (۱) اور بندر ریح مثال پرستی کو چھوڑتے ہوئے دریائے حقیقت میں غوطہ زن ہوتے ہیں اور 4 ہمارے بر عبادت (۲) کے وقت عینک کی طرح ہوتے ہیں اس سے زیادہ ( وقعت ) نہیں ( رکھتے )۔اور ایک دوسرا گروہ ہے، وہ ان تینوں کو فرشتہ جانتے ہیں (۳) اور کہتے ہیں کہ برہما جبرائیل سے تعبیر کیا جاتا ہے، جو پیدا کرنے والا ہے اور بشن اسرافیل سے تعبیر کیا جاتا ہے (۴) جو نگہبان ہے اور ڈ ڈریعنی مہاد یو عزرائیل سے تعبیر کیا جاتا ہے جو کہ فنا کر نیوالا ہے (۵) اور عالمین کا خدا کوئی اور ہے جو تعد دو جننے ومتولّد ہونے سے برتر ہے اور یہ قوم خدا کو (۲) معدوم الصفات سمجھتی ہے واللہ اعلم اور خودکو بیدانتی کہتے ہیں گو کہ یہ فرقہ بادی الرائے میں (۷) ہندؤوں کے دوسرے فرقوں کی نسبت زیادہ مائلِ صلاحیت ہے البتہ اگر کوئی صدق دل اور آزادی فکر سے غور کرے (۸) تو اسے معلوم ہوگا کہ اس (اعتقاد ) میں کتنے ہی شبہات جھول رہے ہیں اور درحقیقت بیدانتیوں کامذہب (۹) یہی ہے کہ دنیا کا کوئی صانع ہے لیکن وہ کوئی صفت نہیں رکھتا اور جو تاثیرات دنیا میں رونما ہوتی ہیں (۱۰) وہ وسیلوں کے ذریعے سے ہوتی ہیں نہ اس کی ذات کے ذریعے سے۔اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ فی الحقیقت تمام ہندؤوں کا مذہب یہی ہے۔بعد میں جاہلوں میں سے (1) ایک گروہ نے ان تینوں فرشتوں کو خدا گمان کر کے بت پرستی میں اپنے آپ کو مبتلا کر لیا کیونکہ