حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 262 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 262

حیات احمد ۲۶۲ جلد اول حصہ دوم تو قایم بخود نیستی یک قدم ز غیبت مدد میرسد د میدم و آدمی زیادہ تر محتاج استعانت در تعدیل و اقامت دل و وصال حق است پس اگر آدمی گوید کہ ایں حاجت من باستعانت و یاوری بت حاصل شده است آن آدمی عبادت خود کرده است خدا را بمنزل متاع فرض کرده که بوسیله بت دستیاب خواهد شد - فقط ترجمه مکتوب بالا هذَا كِتَابٌ رَحْمَةُ اللهِ عَلَى قَائِلِهِ وَ قَابِلِهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ (۱) تعریف صرف تجھے ہی زیبا و درست ہے۔جو کوئی کسی کے بھی دروازے پر جائے تو وہ تیرے ہی دروازہ پر ہوگا۔(۲) اما بعد ! میرا مخاطب وہ شخص ہے جو طالب حقیقت اور صدق و عدل پر قائم رہتا ہے۔(۳) مغرور اور متعصب لوگوں کی محفلوں میں نہیں بیٹھتا اور استہزا اور بیہودہ باتوں پر کان نہیں دھرتا (۴) اور مکاروں کی باتوں میں نہیں آتا اور خدا تعالیٰ کے ارادہ کی پیروی کا خواہش مند ہے۔اسی کی طرف اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے۔جا بجا ہے (۵) قوم ہنود کی کتب میں تلاش حق اور بیان حقیقت گوئی کلیتا نایاب (اور ) وہم پرستی (1) اور بیہودہ خیالی افسانے لکھے ہیں۔ایک گروہ اس اعتقاد پر ہے کہ ہم خدائے بے مثل کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے۔(۷) ہم اس خیال سے برہم و بشن و مہاد یوکو خدا سمجھتے ہیں کہ خدائے بے مثل (۸) ان تین پیکر سے مجسم ہوا اور اسکا دامن وحدت غبار آلودہ نہ ہوا۔اور جو بیگانے (۹) بت پرستی پر طعن کرتے ہیں۔ایسا بالکل نہیں ہے بلکہ ہم ان تینوں ( کے ملاپ سے مل کر