حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 253 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 253

حیات احمد ۲۵۳ جلد اول حصہ دوم لالہ بھیم سین کو ایک تبلیغی محط اور مسئلہ ویدانت و بت پرستی کی تردید سورہ فاتحہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سورہ فاتحہ کا جو ائم الکتاب ہے خاص علم دیا گیا تھا۔آپ تمام مذاہب باطلہ کی تردید اسی ایک سورت سے کرنے کی معجز نما قدرت رکھتے تھے۔اس کا نمونہ آپ کی تقریروں میں عام طور پر پایا جاتا ہے۔اور براہین احمدیہ میں خصوصیت سے اس امر کو دکھایا گیا ہے۔لالہ بھیم سین صاحب سے اس سیرت کے پڑھنے والے واقف و آگاہ ہو چکے ہیں۔لالہ بھیم سین صاحب ایک نیک دل اور خوش اخلاق انسان تھے۔حضرت مسیح موعود سے آپ کو ایک محبت اور وداد کا تعلق تھا۔ان کے پرانے کاغذات میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر عالی جناب لالہ کنور سین صاحب ایم۔اے پرنسپل لاء کالج لاہور خلف الرشید لالہ بھیم سین آنجہانی کی کرم فرمائی سے مجھے ملی ہے۔جو آپ نے لالہ بھیم سین صاحب کو لکھی تھی۔اس تحریر کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مخاطب دوست کی کس قدر عزت اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق کی تعریف کرتے ہیں۔اور اس سلسلہ میں آپ کس طرح پر ان کو اسلام کے اعلیٰ اور اکمل مذہب ہونے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ ان واقعات کو اس حصہ میں جمع کرنا مقصود ہے۔آپ کے اخلاق اور صفات پر بحث کے لئے ایک جلد اس کتاب کی مخصوص کی گئی ہے جس میں ان واقعات کی طرف اشارہ کرنا ہو گا۔یہ خط جہاں تک میں خیال کرتا ہوں (اگر چہ اس پر کوئی تاریخ نہیں) کم و بیش آج سے نصف صدی پیشتر کا ہو گا۔اس سے اندازہ ہو سکتا ہے۔کہ اس وقت آپ کی توجہ تبلیغ اور اظہار الدین کی طرف کس درجہ تک مائل تھی یہ فارسی زبان میں ہے۔اور اصل الفاظ میں میں اسے درج کرتا ہوں قبل اس کے کہ اسے درج کروں میں لالہ کنورسین صاحب ایم۔اے کے الفاظ میں اس مضمون کا شان نزول لکھ دینا چاہتا ہوں۔یہ مضمون بقول قبله والد ماجد مرزا صاحب نے ان ایام میں اپنے دوست میرے والد صاحب کی خاطر لکھا تھا جبکہ ہر دو صاحب سیالکوٹ میں مقیم تھے اور علاوہ مشاغل قانونی وعلمی کے اخلاقی و