حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 252
حیات احمد ۲۵۲ جلد اول حصہ دوم نے فرمایا کہ ہم کو تو اللہ تعالیٰ کی وحی نے بتا دیا کہ قُلْنَا يَا نَارُ كُوْنِي بَرْدًا وَّ سَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيم اور آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ہم تو یقین رکھتے ہیں کہ اگر یہ دشمن ایسی کوشش کریں تو خدا تعالی کی بات ہی کچی ہوگی اور مولوی صاحب کو فر مایا کہ آپ اس کو اپنی کتاب میں لکھ دیں چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح اول نے اپنی کتاب میں صفحہ ۱۴ سے ۱۴۷ تک اس مضمون کو کھول کر لکھا۔فطرت میں دوسروں کی ہمدردی کا جوش سیالکوٹ کے واقعہ سے جو مکان کے گرنے کا ہے۔جہاں حضرت مسیح موعود کی معجز نما زندگی کا ثبوت ملتا ہے۔وہاں دو اور عجیب باتیں بھی ثابت ہوتی ہیں۔اوّل آپ کا دوسروں کی ہمدردی میں خارق عادت جوش۔دوم آپ کا خارق عادت استقلال اور شجاعت۔ان خواب غفلت میں سونے والوں کی بے پرواہی نے آپ کو بار بار اٹھانے اور تاکید کرنے سے گھبرایا نہیں انہوں نے اگر ایک بار توجہ نہیں کی تو دوسری مرتبہ اور پھر تیسری مرتبہ انہیں آنے والے خطرہ سے آگاہ کیا۔اگر دوسروں کی ہمدردی کا جوش آپ کے اندر نہ ہوتا تو ایک مغلوب الغضب یا خود غرض شخص کی طرح یہ خیال کر کے کہ یہ میری بات سنتے نہیں ان کو چھوڑ کر آپ چلے جاتے اور آپ کہہ دیتے کہ اچھا نہیں نکلتے تو جاؤ اپنا سر کھاؤ اور جان دو مگر نہیں بار بارا ٹھایا اور جب تک انہیں وہاں سے نکال نہیں لیا اُس وقت تک اس مکان سے آپ نہیں گئے۔پھر انسان کی عام عادت ہے کہ خطرہ کے مقام سے وہ سب سے پہلے بھاگتا ہے اور اپنے نفس کو مقدم کرتا ہے لیکن یہ فطرت انبیاء کی فطرت ہے کہ جب تک خطرہ کے مقام سے دوسروں کو نکال نہ لیں آپ نہ ہیں۔یہ قوت قلبی ہر شخص کو نہیں مل سکتی۔معمولی رنگ میں بشریت کا یہی تقاضا ہوتا ہے کہ اپنی جان بچائے۔مگر دیکھو کہ حضرت مسیح موعود اس خطرہ کے مقام پر آخری ساعت تک کھڑے رہے اور غرض یہ تھی کہ تا اطمینان کے ساتھ دوسرے نکل جاویں۔اور جب سب نکل چکے تو آپ ایسے وقت نکلے ہیں کہ خطرہ بہت قریب تھا۔آپ نے کوئی سراسیمگی یا بدحواسی ظاہر نہیں کی۔