حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 245
حیات احمد ۲۴۵ جلد اول حصہ دوم ہوتی ہیں کیا تھی۔یہ واقعہ کیا عجب ! بہت سے بچوں اور جوانوں کے لئے ہدایت کا موجب ہو۔اور بہت سے بوڑھوں کے لئے تلافی مافات کے لئے استغفار اور توبہ کی طرف لے جاوے۔بچپن میں ہی نماز کی خواہش تھی اور دعاؤں پر فطرتی ایمان تھا! تیرہویں صدی کی خصوصیتوں اور ملک کی رسمیت کے مؤثرات نے مسلمانوں میں دینی حرارت اور مذہبی بڑھی کو بہت ہی کم کر دیا تھا۔نماز روزہ کے پابند اکسیر کا حکم رکھتے تھے۔حضرت مسیح موعود کا خاندان بھی ان اثرات سے خالی نہ تھا۔ان کے گھر میں بھی بہت سی بدعات نے جگہ لے رکھی تھی۔مگر آپ کی فطرت اور افتاد طبیعت ایسی واقعہ ہوئی تھی کہ بہت چھوٹی عمر میں آپ کو نماز کا شوق پیدا ہو گیا تھا۔والدہ صاحبہ مرزا سلطان احمد صاحب جو ابھی بچہ ہی تھیں۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم ہی کے گھر رہا کرتی تھیں کیونکہ ان کے والد مرزا جمعیت بیگ صاحب بھی یہاں ہی رہتے تھے وہ بھی حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو کبھی کبھی استاد کے پاس پڑھنے کے لئے چھوڑ نے جایا کرتی تھیں۔یہ مکتب کہیں با ہر نہ تھا بلکہ گھر ہی کے ایک حصہ میں تھا یعنی دیوان خانہ کے ایک حصہ میں اس وقت نہ تو ان کے بچوں کی عمر شادی کے قابل تھی اور نہ گھر بھر میں کسی کے وہم وگمان میں تھا کہ آئندہ یہ دونوں بچے نکاح کے سلک میں منسلک ہوں گے۔ان ایام میں حضرت مرزا صاحب ان کو کہا کرتے کہ : - نا مرا دے دعا کر کہ خدا میرے نماز نصیب کرے“ اس فقرہ میں کوئی خاص اثر اور قبولیت تھی کہ پورا ہو گیا۔بچوں کو کھیل کود کا شوق ہوتا ہے۔ان کی خواہشات اور آرزوئیں بہت سطحی ہوتی ہیں۔مگر اس بچہ کو دیکھو کہ اس کو جو خواہش پیدا ہوتی ہے وہ بہت ہی کم بوڑھوں اور جوانوں کو بھی نصیب ہوتی ہے۔اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ آپ نماز کے لئے کیسا جوش اور تڑپ رکھتے تھے۔اور یہ بھی کہ آپ دعاؤں کی قبولیت پر اسی وقت سے ایک ایمان رکھتے تھے۔