حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 234 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 234

حیات احمد ۲۳۴ جلد اول حصہ دوم آپ بچ جاتا۔مگر اس نے مال کی پرواہ کی اور اپنی جان کی پروا نہ کی۔درویش جو ریاضت کرتے ہیں۔اس ریاضت سے ان کی روحانی زندگی بڑھتی ہے۔کے غرض اس مرغ نے نہایت عمدہ رنگ میں اس مضمون پر بحث کی اور بتایا کہ کس طرح انسان بلاؤں سے بچ سکتا ہے۔اس شخص نے چونکہ پروا نہیں کی اب یہ خود مرتا ہے۔خواجہ یہ سن کر ڈرا اور بھاگتا ہوا حضرت موسیٰ کے پاس آیا۔حضرت موسی نے کہا کہ اب تو اپنے آپ کو بیچ کر اگریچ سکتا ہے تو تجربہ کر لے۔اپنے نقصانِ مال کو تو تو نے دوسروں کے نقصان مال پر ڈالا۔اور آپ بچتا گیا مگر اب کیا چارہ ہے اب تو اس سے تو بچ سکتا نہیں، بہتر ہے کہ تو اپنے ایمان کو درست کر۔اگر تو ایمان دار فوت ہوا تو مرے گا نہیں بلکہ زندہ ہی رہے گا۔مومن دراصل مرتا نہیں زندہ رہتا ہے۔غرض آخر وہ ایمان لایا اور اس طرح پر روحانی موت سے بچ گیا۔یہ وہ کہانی ہے جو لالہ ملاوامل صاحب سناتے ہیں کہ انہیں سنائی گئی تھی۔یہ کہانی اپنے اصل الفاظ میں مثنوی مولانا روم تیسرے دفتر میں موجود ہے جو میں انشاء اللہ نیچے درج کرتا ہوں۔اس کہانی میں جیسا کہ اصل مکالمہ سے معلوم ہوگا۔مرغ سے مراد اولیائے حق ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے بلانے سے بولتے ہیں۔اور وہ اسرار الہی سے واقف ہوتے ہیں عوام ان کی اصلیت اور حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں اور جو باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں خصوصاً پیشگوئیوں کے متعلق ان پر معترض ہوتے ہیں بحالیکہ وہ کسی نہ کسی رنگ میں پوری ضرور ہو جاتی ہیں۔پھر اس میں انبیاء علیہم السلام کی قبولیت دعا کے مسئلہ پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بالآخر یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا کے مال و متاع کو آخرت پر مقدم نہیں کرنا چاہیئے بلکہ ان چیزوں کو زندگی کے لئے بطور خادم کے تصور کرنا چاہیئے نہ اصلی مقصود کے۔اور حقیقی زندگی صرف ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔ایمان ہی ایک ایسی چیز ہے جس پر موت اور فنا کا ہاتھ قابو نہیں پاسکتا۔پس لالہ ملا وامل صاحب اور ان کے ہم نشینوں کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اس کہانی کے سنانے سے جو کچھ بھی مطلب ہوسکتا ہے وہ بالکل ظاہر اور نمایاں ہے اور لالہ ملاوامل صاحب نے اگر چہ اس سے اب تک فائدہ نہ اٹھایا مگر