حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 12 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 12

حیات احمد ۱۲ جلد اوّل حصہ اوّل حضرت کے خاندان کا تذکرہ احادیث میں حضرت مسیح موعود یا مرزا غلام احمد صاحب کے خاندان کا تذکرہ یہی نہیں کہ تاریخ کے صفحات میں موجود ہے بلکہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی زبان پر اور آپ کے محفوظ کلام میں آج تک موجود ہے اور اگر اس سے بھی اوپر جائیں تو کتب سابقہ میں بھی اس کے متعلق نشانات مل سکتے ہیں لیکن میں اس قدر پیچھے جانا نہیں چاہتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے ہی اس تاریخ کو شروع کرنا پسند کرتا ہوں۔(۱)۔احادیث سے ثابت ہے۔کہ جب آیات و يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ (السوية ٣٩) وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعة ) نازل ہوئیں تو اصحاب رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ وہ کون لوگ ہیں۔جن کی اس قدر فضلیت اور بزرگی اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بیان کی ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا کہ وہ لوگ اس کی قوم میں سے ہوں گے چنانچہ اس کی تصدیق صحیح بخاری و مسلم کی روایت ذیل سے ہوتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلے اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ سورۃ جمعہ نازل ہوئی اور جب آیت وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا بقیه حاشیه : - یا مثلاً کوئی ان میں سے ذات کا کنجر ہو جس نے اپنے پیشہ سے تو بہ کر لی ہو یا ان قوموں میں سے ہو جو اسلام میں دوسری قوموں کی خادم اور پیچ قو میں سمجھی جاتی ہیں۔جیسے حجام۔موچی۔تیلی۔ڈوم۔میرای۔تھے۔قصائی۔جولا ہے کنجری۔تنبولی۔دھوبی۔مچھوے۔بھڑ بھونجے۔نان بائی وغیرہ یا مثلاً ایسا شخص ہو کہ اس کی ولادت میں ہی شک ہو کہ آیا حلال کا ہے یا حرام کا۔یہ تمام لوگ تو بہ نصوح سے اولیاء اللہ میں داخل ہو سکتے ہیں۔کیونکہ وہ درگاہ کریم ہے اور فیضان کی موجیں بڑے جوش سے جاری ہیں اور اس قدوس ابدی کے دریائے محبت میں غرق ہو کر طرح طرح کے میلوں والے ان تمام میلوں سے پاک ہو سکتے ہیں جو عرف اور عادت کے طور پر ان پر لگائے جاتے ہیں اور پھر بعد اس کے کہ وہ اس خدائے قدوس سے مل گئے اور اس کی محبت میں محو ہو گئے اور اس کی رضا میں کھوئے گئے۔سخت بدذاتی ہوتی ہے کہ ان کی کسی نیچ ذات کا ذکر بھی کیا جائے کیونکہ اب وہ وہ نہیں رہے اور انہوں نے اپنی شخصیت کو چھوڑ دیا اور خدا میں جاملے اور اس لائق ہو گئے کہ تعظیم وتکریم سے ان کا نام لیا جائے اور جو شخص بعد اس تبدیلی کے ان کی تحقیر کرتا ہے یا ایسا خیال دل میں لاتا ہے وہ اندھا ہے اور خدا تعالیٰ کے