حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 199 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 199

حیات احمد ۱۹۹ جلد اول حصہ دوم بے انت ہیں کیونکہ مدت معین کا توالد و تناسل تعداد معینہ سے کبھی زیادہ نہیں اور اگر یہ قول ہے کہ سب ارواح بدفعہ زمین پر جنم لیتے ہیں سو بطلان اس کا ظاہر ہے۔کیونکہ زمین محدود ہے اور ارواح بقول آپ کے غیر محدود۔پھر غیر محدود کس طرح محدود میں سما سکے۔اگر یہ کہ بعض حیوانات بوصف مکتی نہ پانے کے نئی دنیا میں نہیں آتے۔سو یہ آپ کے اصول کے برخلاف ہے۔کیونکہ جیسا کہ پیشتر عرض کیا گیا ہے۔آپ کا یہ اصول ہے کہ ہر نئی دنیا میں تمام وہ ارواح جو سرشٹی گزشتہ میں مکتی پانے سے رہ گئے تھے۔اپنے کرموں کا پھل بھو گنے کے واسطے جنم لیتے ہیں۔کوئی جیو جنم لینے سے باہر نہیں رہ جاتا۔اب قطع نظر ان دلائل سے اگر اسی ایک دلیل پر جو محدود فی الزمان والمکان ہونے کے بے غور کی جائے تو صاف ظاہر ہے کہ آپ کو ارواح کے متعدد ماننے سے کوئی گریز گاہ نہیں اور بجر تسلیم کے کچھ بن نہیں پڑتا۔بالخصوص اگر ان سب دلائل کو جو سوال نمبر 1 میں درج ہو چکے ہیں۔ان دلائل کے ساتھ جو اس تبصرہ میں اندراج پائیں ملا کر پڑھا جائے تو کون منصف ہے جو اس نتیجہ تک نہ پہنچ سکے کہ ایسے روشن ثبوت سے انکار کرنا آفتاب پر خاک ڈالنا ہے۔پھر افسوس کہ باوا صاحب اب تک یہی تصور کئے بیٹھے ہیں کہ ارواح بے انت ہیں اور مکتی پانے سے کبھی ختم نہیں ہوں گے۔اور حقیقت حال جو تھا سو معلوم ہوا کہ کل ارواح پانچ ارب کے اندراندر ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں اور نیز ہر پر لے کے وقت پر ان سب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔اگر بے انت ہوتے تو ان دونوں حالتوں مقدم الذکر میں کیوں ختم ہونا ان کا، رکن اصول آریہ سماج کا ٹھہرتا۔عجب حیرانی کا مقام ہے کہ باوا صاحب خود اپنے ہی اصول سے انحراف کر رہے ہیں۔اتنا خیال نہیں فرماتے کہ جو اشیاء ایک حالت میں قابل اختتام ہیں وہ دوسری حالت میں بھی یہی قابلیت رکھتی ہیں۔یہ نہیں سمجھتے کہ مظروف اپنے ظرف سے کبھی زیادہ نہیں ہوتا۔پس جبکہ کل ارواح ظروف مکانی اور زمانی میں داخل ہو کر اندازہ اپنا ہر نئی دنیا میں معلوم کرا جاتے ہیں اور پیمانہ زمان مکان سے ہمیشہ ماپے جاتے ہیں تو پھر تعجب کہ باوا صاحب کو ہنوز ارواح کے محدود ہونے میں کیوں شک باقی ہے۔میں باوا صاحب سے سوال کرتا ہوں کہ جیسے بقول آپ کے یہ سب ارواح جو آپ کے تصور۔