حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 188 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 188

حیات احمد ۱۸۸ جلد اول حصہ دوم عدالت وصول کرے۔لیکن واضح رہے کہ اگر کوئی صاحب سماج مذکور میں سے اس اصول سے منکر ہو تو صرف انکار طبع کرانا کافی نہ ہوگا بلکہ اس صورت میں بتفریح لکھنا چاہیئے کہ پھر اصول کیا ہوا۔آیا یہ بات ہے کہ ارواح ضرور کسی دن ختم ہو جائیں گے اور تناسخ اور دنیا کا ہمیشہ کے واسطے خاتمہ ہوگا۔یا یہ اصول ہے کہ خدا اور روحوں کو پیدا کر سکتا ہے۔یا یہ کہ بعد مکتی پانے سب روحوں کے پھر ایشر انہیں مکتی یافتہ روحوں کو کیڑے مکوڑے وغیرہ مخلوقات بنا کر دنیا میں بھیج دے گا۔یا یہ کہ اگر چہ ارواح بے انت نہیں اور تعداد ان کا کسی حدود معین میں ضرور محصور ہے مگر پھر بھی بعد نکالے جانے کے باقی ماندہ روح اتنے کے اتنے ہی نہیں رہتے ہیں۔نہ مکتی والوں کی جماعت جن میں یہ تازہ مکتی یافتہ جا ملتے ہیں۔اس بالائی آمدن سے پہلے سے کچھ زیادہ ہو جاتے ہیں اور نہ یہ جماعت جسے کسی قدر ارواح نکل گئے بعد اس خرچ کے کچھ کم ہوتے۔غرض جو اصول ہو۔تفصیل مذکورہ مفضل لکھنا چاہیئے۔المشتہر۔مرزا غلام احمد رئیس قادیان - عفی عنہ اس اعلان کے شائع ہونے پر لالہ جیون داس صاحب نے تو عملی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو صحیح تسلیم کر لیا۔اور روحوں کے بے انت ہونے اور خدا تعالیٰ کو بھی ان کی تعداد معلوم نہ ہونے کے متعلق سوامی دیانند صاحب کی غلطی کو مان لیا۔مگر باوا صاحب نے جواب کی آمادگی ظاہر کی۔اور ۲۳ فروری ۱۸۷۸ء کے سفیر ہند میں انہیں اس اعلان پر بڑا اعتراض یہ سوجھا کہ بجائے انعام کے لفظ جرمانہ ہونا چاہیئے اور حضرت مرزا صاحب ایک دو تخطی تحریر ان کے پاس بھیج دیں اور روپیہ کی وصولی کا اطمینان چاہا۔گویا با واصاحب کے خیال اور علم صحیح میں یہ اعلان کوئی قانونی معاہدہ کی حیثیت نہ رکھتا تھا۔جب تک دستخطی تحریر نہ ہو۔اور انہیں یقین تھا کہ میرا جواب تو ایسا لا جواب ہو گا کہ میں ضرور انعام لے لوں گا مگر وصول کہاں سے کروں گا اور ان حجتوں سے مباحثہ ختم ہو جائے گا۔لیکن جہاں اخلاص اور صدق نیت ہو وہاں اس قسم کی روکیں کچھ کام نہیں آ سکتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کی ان شرائط پر فوراً ایک اور اعلان شائع کیا۔جس میں نہ صرف باوا صاحب کی جملہ شرائط کو تسلیم کر لیا۔بلکہ نہایت ہی لطیف پیرائے میں باوا صاحب کے جواب پر علمی تنقید کی۔وہ اعلان یہ ہے۔