حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 187 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 187

حیات احمد باوا نرائن سنگھ صاحب سے مباحثہ جلد اول حصہ دوم با وا نرائن سنگھ صاحب امرتسر میں ایک پرانے پلیڈر ہیں۔۱۸۷۸ء میں۔۔۔۔۔امرتسر آریہ سماج کے وہ ایک پُر جوش سیکرٹری تھے۔باوا صاحب ہمیشہ مختلف تحریکوں میں نمایاں حصہ لیتے رہے ہیں۔ودیا پر کا شک نام ایک ماہواری رسالہ بھی انہوں نے جاری کیا تھا۔اب جہاں تک میرا خیال ہے آریہ سماج کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں اور اپنی سکھ کمیونٹی کے ایک ممبر ہیں۔حضرت مسیح موعود کے مضامین کا سلسلہ جب سفیر ہند میں شروع ہوا اور لاہور سماج کے سرگرم اور دور اندیش سیکرٹری لالہ جیون داس نے اعلان کیا تو باوا صاحب اپنی سماج کی شہرت اور کارگزاری کے عملی ثبوت کے خیال سے کیونکر خاموش رہ سکتے تھے۔چنانچہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کے مقابل میں آنے کے لئے لاہور کے لئے اخبار آفتاب پنجاب کے کالموں کو منتخب کیا۔باوا صاحب نے سب سے پہلے اس اعلان پر بحث شروع کی۔جو حضرت مسیح موعود نے انعامی شائع کیا تھا۔انعامی اعلان اشتہار ھذا اس غرض سے دیا جاتا ہے۔کہ ےر دسمبر ۱۸۷۷ء کے وکیل ہندوستان وغیرہ اخبار میں بعض لائق فائق آریہ سماج والوں نے بابت روحوں کے اصول اپنا یہ شائع کیا کہ ارواح موجودہ بے انت ہیں۔اور اس کثرت سے ہیں کہ پر میشر کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں۔اسی واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہتے ہیں اور پاتے رہیں گے مگر کبھی ختم نہیں ہوویں گے۔تردید اس کی ہم نے 9 فروری سے ۹ / مارچ تک سفیر ہند کے پر چوں میں بخوبی ثابت کر دیا ہے کہ اصول مذکورہ سراسر غلط ہے۔اب بطور اتمام حجت کے یہ اشتہار تعداد پانچ سو روپیہ معہ جواب الجواب باوا نرائن سنگھ صاحب سیکرٹری آریہ سماج امرتسر کے تحریر کر کے اقرار صحیح قانونی اور عہد جائز شرعی کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب آریہ سماج والوں میں سے بپابندی اصول مسلمہ اپنے کے کل دلائل مندرجہ سفیر ہند و دلائل مرقومہ جواب الجواب مشمولہ اشتہار ہذا کے تو ڑ کر یہ ثابت کر دے کہ ارواح موجودہ جو سوا چار ارب کی مدت میں کل دورہ اپنا پورا کرتے ہیں بے انت ہیں۔اور ایشر کو تعداد ان کا نامعلوم رہا ہے تو میں اس کو مبلغ پانسو روپیہ بطور انعام کے دوں گا۔اور در صورت توقف کے شخص مثبت کو اختیار ہو گا کہ بعدد