حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 186 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 186

حیات احمد ۱۸۶ جلد اول حصہ دوم برعایت شرائط تہذیب جو چاہیں گے جواب دیں گے۔پھر اس کا جواب الجواب ہماری طرف سے گزارش ہوگا اور بحث ختم ہو جائے گی۔ہم سوامی صاحب کی اس درخواست سے بہت خوش ہوئے۔ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ کیوں سوامی صاحب اور اور دھندوں میں لگے ہوئے ہیں اور ایسے سخت اعتراض کا جواب نہیں دیتے جس نے سب آریہ سماج والوں کا دم بند کر رکھا ہے۔اب اگر سوامی صاحب نے اس اعلان کا کوئی جواب مشتہر نہ کیا تو بس یہ سمجھو کہ سوامی صاحب صرف باتیں کر کے اپنے تو ابعین کے آنسو پوچھتے تھے اور مکت یا بوں کی واپسی میں جو جو مفاسد ہیں۔مضمون مشمولہ متعلقہ اس اعلان میں درج ہیں۔ناظریں پڑھیں اور انصاف فرماویں۔“ المعلن مرزا غلام احمد رئیس قادیان۔۱۰رجون ۱۸۷۸ء پنڈت دیانند صاحب نے باوجود یکہ خود مباحثہ کا پیغام دیا تھا۔مگر جب حضرت مسیح موعود کی طرف سے آمادگی کا اعلان ہوا۔اور آپ نے انعامی اشتہار دے دیا۔تو پھر پنڈت دیا نند صاحب کو جرات نہیں ہوئی کہ وہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ مباحثہ کرتے۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سوامی جی پر اتمام حجت کا کوئی پہلو باقی نہیں رکھا۔چنانچہ جب براہین تصنیف ہوئی۔تو اس وقت پھر آپ نے تبلیغ کا سلسلہ شروع کیا اور اس طرح پر اتمام حجت کی کہ آخر پنڈت صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آیات صداقت میں ایک نشان ٹھہر گئے۔کیونکہ ان کی وفات کی خبر قبل از وقت آپ نے ان کے متبعین کو دیدی تھی۔یہ حصہ میں براہین احمدیہ کے زمانہ تالیف کے واقعات کے ذکر میں انشاء اللہ بیان کروں گا۔غرض پنڈت صاحب کو تو اپنی زندگی بھر حوصلہ اور ہمت نہیں ہوئی کہ وہ حضرت مسیح موعود سے مقابلہ کے لئے تقریر یا تحریر کے میدان میں سامنے آتے۔مگر ان کے بعض دوستوں نے کسی نہ کسی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مباحثہ کے لئے قدم بڑھایا۔لالہ جیون داس صاحب نے تو جس دانشمندی اور انصاف پسندی کے ساتھ سوامی جی کے بیان کردہ عقیدہ متعلق تعداد ارواح سے بیزاری ظاہر کی اوپر ذکر ہو چکا ہے اسی سلسلہ میں امرتسر آریہ سماج کے سیکرٹری باوا نرائن سنگھ صاحب سے مباحثہ شروع ہو گیا۔