حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 185 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 185

حیات احمد رائے کو قائم کریں۔۱۸۵ جلد اول حصہ دوم خیر اب ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امرتسر آریہ سماج کے لائق سیکرٹری باوا نرائن سنگھ صاحب اور نیز ان کے دیگر وید بھائیوں نے پہلے جس زور شور کے ساتھ سوامی جی کی ہدایت کے موافق ارواح کے بے انت ہونے کا دم بھرتے تھے۔اُسی سرگرمی اور شد ومد کے ساتھ وہ اپنے پہلے یقین کے برعکس سوامی جی کے پچھلے اقرار کے موافق ارواح کے بے انت ہونے کے مسئلہ پر یقین کرنے کو مستعد ہیں یا نہیں؟ اس مختصر مقدمہ کے بعد ہم مرزا صاحب کے اس اعلان کو بمعہ مضمون درج کرتے ہیں۔جو انہوں نے اس بحث کے ضمن میں اس رسالہ میں مشتہر کرنے کی غرض سے ہمارے پاس بھیجا ہے۔(ایڈیٹر ) ”اعلان“ سوامی دیانند سرسوتی صاحب نے بجواب ہماری اس بحث کے جو ہم نے روحوں کا بے انت ہونا باطل کر کے غلط ہونا مسئلہ تناسخ اور قدامت سلسلہ دنیا ثابت کیا تھا۔معرفت تین کس آریہ سماج والوں کے یہ پیغام بھیجا ہے کہ اگر چہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں۔لیکن تناسخ اس طرح پر ہمیشہ بنا رہتا ہے کہ جب سب ارواح مکتی پا جاتے ہیں۔تو پھر بوقت ضرورت مکتی سے باہر نکالی جاتی ہیں۔اب سوامی صاحب فرماتے ہیں کہ اگر ہمارے اس جواب میں کچھ شک و شبہ ہو تو بالمواجہ بحث کرنی چاہیئے۔چنانچہ اسی بارے میں سوامی صاحب کا ایک خط بھی آیا۔اس خط میں بھی بحث کا شوق ظاہر کرتے ہیں۔اس واسطے بذریعہ اس اعلان کے عرض کیا جاتا ہے کہ بحث بالمواجہ ہم کو بسر و چشم منظور ہے۔کاش سوامی صاحب کسی طرح ہمارے سوالوں کا جواب دیں۔مناسب ہے کہ سوامی صاحب کوئی مقام ثالث بالخیر کا واسطے انعقاد اس جلسہ کے تجویز کر کے بذریعہ کسی مشہور اخبار کے تاریخ و مقام کو مشتہر کر دیں۔لیکن اس جلسہ میں شرط یہ ہے۔کہ یہ جلسہ بحاضری چند منصفان صاحب لیاقت اعلیٰ کہ تین صاحب ان میں سے ممبران بر ہم سماج اور تین صاحب مسیحی مذہب ہوں گے۔قرار پائے گا اول تقریر کرنے کا ہمارا حق ہوگا کیونکہ ہم معترض ہیں۔پھر پنڈت صاحب