حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 184
حیات احمد ۱۸۴ جلد اول حصہ دوم خوبی کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ اُن میں انصاف پسندی کی عادت پائی جاتی ہے۔چنانچہ یہ ایک مذکورہ بالا حرف اول ہے مثال نہیں ہے جس میں انہوں نے اپنے یقین کو تبدیل کیا ہے۔بلکہ اس سے پہلے بارہا ایسا کر چکے ہیں۔چند سال ہوئے۔کانپور میں جب انہوں نے ایک اشتہار اپنا د تخطی مشتہر کیا تھا۔تو اس میں انہوں نے اول اول اکیس شاستروں کو ایشر کرت“ (خدا کے اپنے تصنیف کئے ہوئے ) قرار دیا تھا۔پھر رفتہ رفتہ جب انہوں نے ان میں بہت سی خرابیاں دیکھیں۔تو سب کو چھوڑ چھاڑ صرف چار ویدوں کو ایشر کرت“ بتلانے لگے۔پھر اس کے بعد جب ویدوں کا ایک حصہ جس کو برہمن کہتے ہیں۔ان کی نظروں میں صحیح ثابت نہیں ہوا تو اب صرف اُس کے اُس حصہ کو جس کو منتر بھاگ کہتے ہیں۔الہامی کہتے ہیں۔اس سے اگر چہ ان کی کسی قدر متلون مزاجی بھی ظاہر ہوتی ہے۔مگر ساتھ ہی اس کے طبیعت میں راستی پسندی کا بھی ثبوت پایا جاتا ہے۔ہاں اس میں صرف ایک بہت بڑی کسر یہ باقی ہے کہ وہ اول ایک چیز کی نسبت پہلے ہی سے ایک یقین پیدا کر لیتے ہیں پھر جب کبھی حسب اتفاق اس یقین کا بطلان انہیں معلوم ہو جاتا ہے تب اس کو چھوڑتے ہیں۔مگر اس قسم کی تحقیقات سچے محققوں کے اصول تحقیقات سے بالکل مخالف ہیں۔کیونکہ جب تم نے پہلے سے ہی ایک قسم کا یقین اپنے دل میں قائم کر لیا تو پھر اس میں خواہ مخواہ تمہاری طبیعت کا یہ مقتضی ہو جاتا ہے کہ اس کے بارے میں تم جو کچھ سوچتے ہو وہ زیادہ تر وہی ہوتا ہے۔جو تمہاری طبیعت کے موافق ہو کر تمہارے پہلے قائم کئے ہوئے یقین کی اعانت کرتا ہے۔پس اگر وہ یقین غلط قائم ہو گیا ہے تو اس سے نکلنا ایک دفعہ نہایت مشکل بلکہ عنقریب ناممکن کے ہو جاتا ہے۔پس اگر سوامی جی واقعی اپنے تئیں ایک بچے محقق کی مثال بنانا چاہتے ہیں۔تو ان کو چاہیئے کہ وہ پیشتر اس کے کہ تحقیقات ختم ہو کسی چیز کے موافق یا منافق یقین پہلے ہی سے پیدا نہ کر لیں بلکہ ثالث بالخیر ہوکر مثل ایک سچے جج کے جب مقدمہ کی کل تحقیقات ختم ہو جائے تب فیصلہ کو دخل دیں۔کاش کہ ہمارے فاضل سوامی جی اب بھی دیدوں کے منتر بھاگ کو پہلے سے ہی الہام ماننے سے گریز کریں۔اور بعد تحقیقات کامل کے جو اس انیسویں صدی میں چنداں مشکل نہیں ہے۔پھر حسب نتیجہ اپنی