حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 183
حیات احمد ۱۸۳ جلد اول حصہ دوم کے یقین کرتے رہے ہیں اور بائیں خیال کہ اس مسئلہ کو بھی مثل اور مسئلوں کے سوامی جی نے انہیں وید کی ہدایت کے موافق بتلایا تھا اس پر نہایت مضبوطی کے ساتھ دعوی کرتے رہے ہیں۔مگر اب ہمارے مضمون نگار مرزا غلام احمد صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آخر کار جب مرزا صاحب نے مسئلہ مذکور کو اپنی بحث میں باطل ثابت کر دیا تو لا چارسوامی جی نے مرزا صاحب کو یہ پیغام بھیجا کہ حقیقت میں ارواح بے انت نہیں ہیں لیکن تناسخ صحیح ہے۔خیر کچھ ہی ہو۔مگر اس موقعہ پر ہم اپنے ناظرین پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ سوامی جی کے اس اقرار سے چار باتیں اُن پر صادق آتی ہیں۔اول جبکہ وہ وید کی ہدایت کے موافق آریہ سماج میں اپنے مقلدوں کو یہ یقین دلا چکے تھے کہ ارواح انادی اور لا انتہا ہیں۔پھر اُس کے خلاف اس مسئلہ کے باطل ثابت ہونے پر یہ اقرار کرنا کہ ارواح حقیقت میں بے انت نہیں ہیں۔صاف دلالت کرتا ہے کہ جس کتاب کی ہدایتوں کو وہ خدا کا کلام یقین کرتے ہیں اس کے مخالف انہوں نے اپنا یقین ظاہر کیا ہے۔دوم اگر یہ پایا جاوے کہ درحقیقت وید میں یہی لکھا ہے کہ جو انہوں نے پیچھے سے اپنا یقین ظاہر کیا ہے۔تو پھر اُس سے یہ ضرور لازم آتا ہے۔کہ اُن میں خود وید کے سمجھنے کے لئے بہت بڑی لیاقت موجود ہے اور نیز اوروں کے سمجھانے کا بھی خوب ملکہ حاصل ہے۔یعنی ایک وقت میں وید سے جس قسم کی ہدایت ظاہر کی جاتی ہے۔دوسرے وقت میں حسب موقع ٹھیک اُس کے برعکس بھی بتلائی جاسکتی ہے۔سوم :- اگر فی الواقعہ یہ مسئلہ ہی دید میں موجود نہیں ہے۔اور سوامی جی نے صرف اپنی رائے کے موافق ہی اپنے مقلدوں کو بتلایا تھا۔تو اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ سوامی جی کا یہ وید عجیب ہے۔کہ جس میں ریلوے اور تار برقی کے علوم تک کا تو ذکر ہو۔مگر خاص دھرم کے متعلق جو مسائل ہیں۔ان کا کچھ بیان نہ ہو۔اور باوجود وید کے مقلد رہنے کے ان کو پھر اسی سچے وید کی ہدایت کا محتاج ہونا پڑے۔جس کو عقل کہتے ہیں۔چہارم :۔سوامی جی کے اس برتاؤ سے کہ جس میں وہ اپنے کسی یقین کے غلط ثابت ہونے پر اس کو چھوڑ صحیح یا راست امر کی طرف رجوع کرتے ہوئے معلوم ہوتے رہے ہیں۔اُن کی اس عمدہ