حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 179 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 179

حیات احمد ۱۷۹ جلد اول حصہ دوم عقیدہ آریہ سماج کے اصولوں میں داخل نہیں اور پنڈت دیانند صاحب کی ہر ایک بات نہیں مانتے۔مجھے اس سے بحث نہیں کہ آریہ سماج لاہور اور پنڈت دیانند صاحب نے اس مسئلہ کے اختلاف پر کیا تصفیہ باہم کیا۔اور نہ یہ امر اس سیرت کے اغراض میں داخل ہے۔مجھ کو صرف یہ دکھانا ہے کہ حضرت مسیح موعود کی اس قلمی جنبش نے آریہ سماج کو ہلا دیا اور اسے ایسا اعلان شائع کرنے پر مجبور کر دیا۔یہ ایک عظیم الشان فتح تھی جو خدا تعالیٰ کے جلال کے اظہار میں حضرت مسیح موعود کو حاصل ہوئی اور جس نے آریہ سماج میں بیداری پیدا کر کے اندھی تقلید سے انہیں نجات دلائی۔شاید یہ بیان ناقص رہ جائے گا اگر میں لالہ جیون داس صاحب سیکرٹری آریہ سماج لاہور کا اعلان درج نہ کروں۔آریہ سماج سے مباحثات کے سلسلہ میں سب سے پہلے لالہ جیون داس سیکرٹری آریہ سماج لاہور کا اعلان درج کرتا ہوں جس کا ذکر پہلے کر آیا ہوں۔لالہ جیون داس سیکرٹری آریہ سماج لاہور کا اعلان آج میں نے اتفاقاً آپ کے اخبار مطبوعہ 9 فروری کے ابتدائی صفحہ میں ایک اشتہار منجانب مرزا غلام احمد رئیس قادیان دیکھا۔لہذا اس کی نسبت چند سطور ارسال خدمت ہیں۔امید کہ درج اخبار فرما کر مشکور فرمائیے گا۔راقم اشتہار نے لکھا ہے کہ جو صاحب منجملہ توابع سوامی دیانند سرسوتی صاحب سوال ھذا کا جواب دے کر ثابت کرے کہ روح بے انت ہیں۔اور پرمیشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں۔تو میں اس کو مبلغ پانچ سوروپیہ بطور انعام کے دوں گا۔اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ لفظ توابع سے صاحب راقم کا کیا مطلب ہے۔اگر آریہ سماج والوں سے مراد ہے تو معلوم رہے کہ وے لوگ سوامی دیانند صاحب کے تو ابعین سے نہیں ہیں۔یعنی وے عام طور پر پابند خیالات سوامی دیانند کے نہیں۔ہاں ان کے خیالات میں سے جو بات جس کو معقول معلوم ہوتی ہے وہ اس کو مانتا ہے۔اور یہ امر کچھ آریہ سماج والوں سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر کوئی امر معقول کو پسند کرتا ہے۔اب رہی یہ بات کہ روح بے انت ہیں۔اور پر میشور کو ان کی تعداد معلوم نہیں۔آریہ سماج اس کو مانتی ہے یا نہیں۔تو