حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 174 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 174

حیات احمد ۱۷۴ جلد اول حصہ دوم دوسرے مقام پر مفصل بحث انشاء اللہ ہوگی۔حضرت مسیح موعود بحیثیت ایک باپ کے نہایت شفیق اور مہربان تھے۔کبھی پسند نہیں کرتے تھے کہ لوگ بچوں کو ماریں۔پھر اپنی اولاد کی جو خدا تعالیٰ کے نشانات میں سے تھی۔ہر طرح دلداری فرماتے تھے۔(تربیت اولاد کا تذکرہ بھی اپنے محل پر ہو گا ) با وجود اس قدر نرمی اور شفقت علی الاولاد کے جب قرآن مجید کا کوئی معاملہ پیش آ جاتا تو بچوں کی کوئی حقیقت آپ کے سامنے نہ رہتی تھی۔ایک مرتبہ حضرت صاحبزادہ صاحب میاں مبارک احمد اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا فَرَطًا سے جب کہ وہ بہت چھوٹے بچے تھے۔قرآن مجید کی بے ادبی ہو گئی۔اس وقت آپ کا چہرہ سُرخ ہو گیا اور ایسے زور سے طمانچہ مارا۔کہ انگلیوں کے نشان اس گلاب جیسے رخسار پر نمایاں ہو گئے۔اور فرمایا اس کو میری آنکھوں کے آگے سے ہٹا لو۔یہ اب ہی قرآن شریف کی بے ادبی کرنے لگا ہے تو پھر کیا ہو گا۔یہ واقعہ حضرت مسیح موعود کی قرآنی غیرت پر روشنی ڈالتا ہے۔اندرون خانہ میں ایک واقعہ ہوتا ہے۔اور یہ واقعہ ایک ایسے بچے سے ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے حضور مکلف نہیں معصوم ہے۔اور کوئی شخص بھی اسے مورد اعتراض نہیں ٹھہرا سکتا۔پھر باپ وہ باپ جو دوسروں پر بے حد شفیق ہے۔دشمنوں اور جاں ستاں دشمنوں تک کے قصور معاف کر دینے کے لئے وسیع حوصلہ رکھتا ہے۔بچوں کو سزا دینے کا سخت مخالف ہے اور بچوں کے تنگ کرنے پر بھی گھبرا تا اور ہچکچاتا نہیں۔وہ اس زور سے تھپڑ مارتا ہے کہ منہ پر نشان ڈال دیتا ہے۔اور پیارے بچے کو سامنے سے ہٹا دینے کے لئے حکم دیتا ہے۔اس غیرت کی کوئی نظیر دنیا میں پیش کر سکتا ہے؟ یہ بات پیدا نہیں ہو سکتی جب تک خدا تعالیٰ کے کلام کی خاص عظمت دل پر نہ ہو۔ایسی محبت نہ ہو کہ اس کے سامنے دوسری ساری محبتیں بیچ اور ساری عظمتیں اس پر قربان نہ ہوں۔غرض آپکے مطالعہ میں سب سے زیادہ خدا تعالیٰ کا کلام رہتا۔اس کے بعد بخاری پر آپ بہت فکر کرتے اور اسے مطالعہ میں رکھتے۔اس کے بعد دلائل الخیرات اور مثنوی مولاناروم آپ کی پسندیدہ کتابیں مطالعہ کے لئے تھیں۔ان کے علاوہ