حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 173
حیات احمد ۱۷۳ جلد اول حصہ دوم پڑھتے اور اس پر نشان کرتے رہتے تھے۔وہ کہتے ہیں کہ میں بلا مبالغہ کہہ سکتا ہوں کہ شاید دس ہزار مرتبہ اس کو پڑھا ہو! اس قدر تلاوت قرآن مجید کا شوق اور جوش ظاہر کرتا ہے کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی اس مجید کتاب سے کس قدر محبت اور تعلق تھا۔اور آپ کو کلام الہی سے کیسی مناسبت اور دلچسپی تھی۔اسی تلاوت اور پر غور مطالعہ نے آپ کے اندر قرآن مجید کی صداقت اور عظمت کے اظہار کے لئے ایک جوش پیدا کر دیا تھا۔اور خدا تعالیٰ نے علوم قرآنی کا ایک بحرنا پیدا کنار آپ کو بنا دیا تھا۔جو علم کلام آپ کو دیا گیا اس کی نظیر پہلوں میں نہیں ملتی۔یہ بحث حضرت مسیح موعود کے علم کلام کے سلسلہ میں ہو گی۔غرض ایک تو قرآن مجید کے ساتھ غایت درجہ کی محبت تھی۔اور اس کی عظمت اور صداقت کے اظہار کے لئے ایک رو بجلی کی طرح آپ کے اندر دوڑ رہی تھی۔جس کا ظہور بہت جلد ہو گیا۔قرآن مجید کے ساتھ محبت اور عشق کے اظہار میں آپ کا فارسی عربی ،اردو کلام شاہد ناطق ہے۔ایسے رنگ اور اسلوب سے قرآنِ کریم کی مدح کی ہے کہ دوسروں کو وہ بات نصیب نہیں ہوئی۔میں یہاں صرف ایک نظم میں سے چند شعر دیتا ہوں۔شکر خدائے رحماں جس نے دیا ہے قرآں غنچے تھے سارے پہلے اب گل کھلا یہی کیا وصف اس کے کہنا ہر حرف اس کا گہنا دلبر بہت ہیں دیکھے دل لے گیا یہی ہے دیکھی ہیں سب کتابیں مجمل ہیں جیسی خوا ہیں خالی ہیں ان کی قابیں خوانِ ہدگی یہی ہے اس نے خدا ملایا وہ یار اس سے پایا راتیں تھیں جتنی گزریں اب دن چڑھا یہی ہے کہتے ہیں حُسنِ یوسف دلکش بہت تھا لیکن خوبی و دلبری میں سب سے سوا یہی ہے دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں قرآں کے گرد گھوموں کعبہ مرا یہی ہے قرآن مجید کے لئے غیرت ہے قرآن مجید کے ساتھ محبت کا اظہار تو ان اشعار سے ہوتا ہے۔اور قرآن مجید کے لئے جو غیرت آپ کو تھی۔اس کے اظہار کے لئے سر دست میں صرف ایک واقعہ لکھ دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ہر چند وہ واقعہ سیرت کے اس حصہ سے متعلق نہیں۔علاوہ بریں اس عنوان پر سیرت کے کسی