حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 163 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 163

حیات احمد جلد اول حصہ دوم لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا۔یعنی یہ مومنوں کا ایک خاصہ ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے ان کی خواہیں سچی نکلتی ہیں۔اور آپ ابھی دعوی کر چکے ہیں کہ میں قرآن پر بھی ایمان لاتا ہوں۔بہت خوب ! آؤ قرآن کریم کی رو سے بھی آزما 66 لیں کہ مومن ہونے کی نشانی کس میں ہے۔“ صادق اور کاذب کی شناخت کا معیار اور اس کے مقابلہ کی دعوت یہ دونوں آزمائشیں یوں ہو سکتی ہیں کہ بٹالہ یا لا ہور یا امرتسر میں ایک مجلس مقرر کر کے فریقین کے شواہد رؤیا اُن میں حاضر ہو جائیں اور پھر جو شخص ہم دونوں میں سے یقینی اور قطعی ثبوتوں کے ذریعہ سے اپنی خوابوں میں اصدق ثابت ہواُس کے مخالف کا نام کذاب اور دنبال اور کافر اور اکفر اور ملعون یا جو نام تجویز ہوں۔اسی وقت اس کو یہ تمغہ پہنایا جائے اور اگر آپ گزشتہ کے ثبوت سے عاجز ہوں تو میں قبول کرتا ہوں بلکہ چھ ماہ تک آپ کو رخصت دیتا ہوں کہ آپ چند اخباروں میں اپنی ایسی خوا میں درج کرا دیں۔جو امور غیبیہ پر مشتمل ہوں اور میں نہ صرف اسی پر کفایت کروں گا کہ گزشتہ کا آپ کو ثبوت دوں بلکہ آپ کے مقابل پر بھی انشاء اللہ القدیر اپنی خواہیں درج کراؤں گا۔اور جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ میں قرآن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاتا ہوں یہی میرا دعویٰ ہے کہ میں بدل و جان اُس پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اُس پیاری کتاب قرآن کریم پر ایمان رکھتا ہوں اب اس نشانی سے آزمایا جائے گا کہ اپنے دعوئی میں سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔اگر میں اُس علامت کے رو سے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم نے قرار دی ہے مغلوب رہا۔تو پھر آپ سچے رہیں گے اور میں بقول آپ کے کافر۔دجال۔بے ایمان۔شیطان اور کذاب اور مفتری ٹھہروں گا اور اس صورت میں آپ کے وہ تمام ظنون فاسدہ درست اور برحق ا یونس : ۶۵