حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 162 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 162

حیات احمد ۱۶۲ جلد اول حصہ دوم مولوی محمد حسین کے الزام کا لا جواب جواب قوله : عقائد باطله مخالفه دین اسلام و ادیان سابقہ کے علاوہ جھوٹ بولنا اور دھوکا دینا آپ کا ایسا وصف لازم بن گیا ہے کہ گویا وہ آپ کی سرشت کا ایک جزو ہے۔اقول شیخ صاحب جو شخص متقی اور حلال زادہ ہو اؤل وہ جرات کر کے اپنے بھائی پر بے تحقیق کامل کسی فسق اور کفر کا الزام نہیں لگا تا اور اگر لگاوے تو پھر ایسا کامل ثبوت پیش کرتا ہے کہ گویا دیکھنے والوں کے لئے دن چڑھا دیتا ہے پس اگر آپ ان دونوں صفتوں مذکورہ بالا سے متصف ہیں تو آپ کو اس خداوند قادر ذوالجلال کی قسم ہے جس کی قسم دینے پر حضرت نبی صلی اللہ علیہ وسلّم بھی توجہ کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ آپ حسب خیال اپنے یہ دونوں قسم کا خبث اس عاجز میں ثابت کر کے دکھلاویں یعنی اول یہ کہ میں مخالف دین اسلام اور کافر ہوں۔اور دوسرے یہ کہ میرا شیوہ جھوٹ بولنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اپنی رؤیا میں صادق تر وہی ہوتا ہے جو اپنی باتوں میں صادق تر ہوتا ہے۔“ اپنی راستبازی کی تائید حدیث صحیح سے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صادق کی یہ نشانی ٹھہرائی ہے کہ اُس کی خوابوں پر بیچ کا غلبہ ہوتا ہے اور ابھی آپ دعویٰ کر چکے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلّم پر ایمان لاتا ہوں پس اگر آپ نے یہ بات نفاق سے نہیں کہی۔اور آپ در حقیقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم اپنے قول میں بچے ہیں تو آؤ ہم اور تم اس طریق سے ایک دوسرے کو آزما لیں کہ بموجب اس محک کے کون صادق ثابت ہوتا ہے اور کس کی سرشت میں جھوٹ ہے۔اور ایسا ہی اللہ جل شانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔