حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 136 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 136

حیات احمد جلد اوّل حصہ اوّل پھر فرماتے ہیں:۔کام جو کرتے ہیں تیری راہ میں پاتے ہیں جزا مُجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف و کرم ہے بار بار تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے اے میرے کریم کس عمل پہ مجھ کو دی ہے خلعت قرب و جوار رکرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار یہ سراسر فضل و احسان ہے کہ میں آیا پسند ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گزار لوگ کہتے ہیں کہ نالائق نہیں ہوتا قبول میں تو نالائق بھی ہو کر یا گیا درگاہ میں بار و کرم اس قدر مجھ پر ہوئیں تیری عنایات و جن کا مشکل ہے کہ تا روز قیامت ہو شمار اس ہمہ نیستی اور کامل تذلل اور عبودیت تامہ ہی کا یہ نتیجہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک عظیم الشان کام کے لئے منتخب اور مامور فرمایا۔لالہ ملا وامل اور شرمیت رائے غرض یہ سلسلہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔آپ کے والد صاحب کی وفات کے بعد نہایت شدت اور زور کے ساتھ جاری ہو گیا۔اصل بات یہ ہے کہ اب وہ زمانہ قریب آتا جا رہا ہے کہ جب آپ دنیا میں ایک مامور کی حیثیت سے نمودار ہونے والے تھے۔اس وقت آپ کے پاس بعض قادیان کے ہندو جن میں لالہ ملا وامل اور شرمپت رائے زیادہ مشہور ہیں آیا جایا کرتے