حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 132 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 132

حیات احمد ۱۳۲ جلد اوّل حصہ اول اور اطمینان دلایا وہ ایک عظیم الشان نشان آپ کی صداقت کا ہے۔چنانچہ فرماتے ہیں۔” جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہو جائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کے مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا۔اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ اُنہیں کی زندگی سے وابستہ تھے۔اور وہ سرکار انگریزی کی طرف سے پنشن پاتے تھے اور نیز ایک رقم کثیر انعام کی پاتے تھے جو اُن کی حیات سے مشروط تھی۔اس لئے یہ خیال گزارا کہ اُن کی وفات کے بعد کیا ہو گا اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے۔اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا۔تب اُسی وقت غنودگی ہو کر یہ دوسرا الہام ہوا۔اليْسَ اللَّهِ بِكَافٍ عَبْدَهُ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟ اس الہام الہی کے ساتھ ایسا دل قوی ہو گیا کہ جیسے ایک سخت درد ناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتا ہے۔درحقیقت یہ امر بار ہا آزمایا گیا ہے کہ وحی الہی میں دلی تسلی دینے کے لئے ایک ذاتی خاصیت ہے اور جڑھ اس خاصیت کی وہ یقین ہے جو وحی الہی پر ہو جاتا ہے۔افسوس ان لوگوں کے کیسے الہام ہیں کہ باوجود دعوی الہام کے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ہمارے الہام ظنی امور ہیں۔نہ معلوم یہ شیطانی ہیں یا رحمانی۔ایسے الہاموں کا ضرر اُن کے نفع سے زیادہ ہے۔مگر میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں ان الہامات پر اسی طرح ایمان لاتا ہوں جیسا کہ قرآن شریف پر اور خدا کی دوسری کتابوں پر اور جس طرح میں قرآن شریف کو یقینی اور قطعی طور پر خدا کا کلام جانتا ہوں اُسی طرح اس کلام کو بھی جو میرے پر نازل ہوتا ہے خدا کا کلام یقین کرتا ہوں۔کیونکہ اس کے ساتھ الہی چمک اور نور دیکھتا ہوں اور اس کے ساتھ خدا کی قدرتوں کے نمونے پاتا ہوں۔غرض جب مجھ کو الہام ہوا کہ الیس الله بِكَافٍ عَبْدَہ تو میں نے اُسی وقت سے سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا