حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 131
حیات احمد ۱۳۱ جلد اوّل حصہ اوّل کے پاس بھی چند مرتبہ تشریف لے گئے۔آپ کے یہ سفر کسی ذاتی غرض یا دنیوی مفاد پر مشتمل نه تھے۔بلکہ محض كُونُوا مَعَ الصَّادِقِین پر عمل کرنے کے لئے یا ترقی اسلام کے لئے دعا کرانے کے واسطے تھے۔شروع ہی سے آپ کی فطرت میں اسلام کی تائید اور نصرت کے لئے خاص جوش تھا۔آپ خود بھی اس کے لئے دعائیں کرتے رہتے تھے جیسا کہ آپ کی ایک پرانی دعا اوپر دیوان فرخ سے میں نے نقل کی ہے۔آپ کا سونا۔جاگنا۔چلنا۔پھر نا اسی دُھن اور آرزو میں تھا۔غرض حضرت مسیح موعود ان لوگوں کے پاس جایا کرتے تھے۔اب میں پھر ناظرین کو اس حصہ زندگی میں لے چلتا ہوں۔جبکہ آپ اپنے والد صاحب کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ سے قبل از وقت پا کر قادیان آئے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے خبر دی تھی اسی دن بعد نماز مغرب فوت ہو گئے۔اور مسجد اقصیٰ میں اُسی جگہ جہاں انہوں نے نشان بتایا تھا۔اپنے خاندانی قبرستان کو چھوڑ کر دفن ہوئے۔والد صاحب کی وفات کے بعد کے حالات کا خطرہ اور خدا تعالیٰ کی طرف سے تسلی اور کفالت کا مژدہ حضرت مسیح موعود چونکہ ایسی فطرت رکھتے تھے کہ کسی انسان کے سامنے اپنی کوئی تکلیف اور ضرورت کو پیش نہیں کرتے تھے۔اور گھر والوں کو بھی یہ خیال کر کے کہ وہ دنیا دار نہیں عام دنیا داروں کی طرح کچھ کم توجہ ہوتی تھی۔بلکہ بعض وقت آپ پر ایسے بھی گزر جاتے تھے کہ اسی بے التفاتی کی وجہ سے آپ کو فاقہ کرنا پڑتا۔حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب خصوصیت سے خیال رکھا کرتے تھے اور ذریعہ آمدنی بھی ان کی ذات کی وجہ سے وسیع تھے۔ان کو سرکاری پنشن بھی ملتی تھی اور سرداری کا بھی کچھ روپیہ آتا تھا۔اس کے علاوہ تعلقد اری اور زمینداری کی آمدنی مزیدے برآں تھی۔ان میں سے بعض مواجب جو حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی ذات اور شخصیت سے وابستہ تھے وہ بند ہو جانے یقینی تھے۔اس لئے جب حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کی وفات کی خبر اللہ تعالیٰ نے دی تو آپ کے دل میں جو خیالات گزرے۔اور اللہ تعالیٰ نے جس طرح پر آپ کو تسلی