حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل)

by Other Authors

Page 128 of 470

حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 128

حیات احمد ۱۲۸ جلد اوّل حصہ اول اس کی یہی وجہ ہے کہ ان کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوا کہ یہ عاجز من جانب اللہ مامور ہونے والا ہے اور انہوں نے کئی خط لکھے۔اور اپنے الہامات متبرکہ ظاہر کئے۔اور بعض لوگوں کے پاس اس بارے میں بیان بھی کیا۔اور عالم کشف میں بھی اپنی یہ مراد (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۶۴۲۶۳) ظاہر کی۔“ حافظ محمد یوسف کی شہادت حافظ محمد یوسف ضلعدار نہر امرتسر میں رہتے تھے ان کو مولوی عبد اللہ غزنوی سے بہت محبت اور اخلاص تھا۔انہوں نے حضرت مرزا صاحب سے یہ بیان کیا۔کہ مولوی عبداللہ صاحب مرحوم نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے اپنے کشف سے پیشگوئی کی تھی کہ ایک نور آسمان سے قادیان کی طرف نازل ہوا۔مگر افسوس میری اولا د اس سے محروم رہ گئی۔حافظ محمد یوسف صاحب کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی بڑی ارادت اور عقیدت تھی۔اور وہ اپنے کشف اور الہامات بھی حضرت مسیح موعود کی تائید میں سنایا کرتے تھے۔اور سلسلہ میں ہر طرح سے دلچسپی رکھتے تھے بعد میں انہیں منشی الہی بخش صاحب کی مخالفت کے سلسلہ میں ابتلا آیا۔اور وہ اس سلسلہ کے مخالفین میں شامل ہو گئے۔مگر اس اپنے بیان کی کبھی تردید نہیں کی۔اور اس طرح پر وہ اس شہادتِ حقہ کو ادا کر کے دنیا سے رخصت ہوئے۔ان کے بعض حالات کا تذکرہ جو اس لائف سے متعلق ہے دوسرے مقامات پر انشاء اللہ آئے گا۔حافظ صاحب کے بھائی منشی محمد یعقوب کی شہادت حافظ محمد یوسف صاحب کے بڑے بھائی منشی محمد یعقوب تھے۔انہوں نے ۱۸۹۳ء میں عبدالحق سے مباہلہ کے دن امرتسر کی عید گاہ میں مباہلہ کے بعد بیعت کی تھی۔مگر انہوں نے اپنی بیعت سے قریب سات سال پہلے ۱۸۸۶ء میں جب حضرت مسیح موعود بھی بیعت لینے کے لئے بھی مامور نہ تھے۔بمقام ہوشیار پور جبکہ حضرت مسیح موعود شیخ مہر علی صاحب رئیس ہوشیار پور کے مکان