حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 115
حیات احمد ۱۱۵ جلد اوّل حصہ اوّل نکالا ہے۔جو لذت مجھے حکوت میں آتی ہے اس سے بجز خدا تعالیٰ کے کون واقف ہے۔میں قریباً ۲۵ سال تک خلوت میں بیٹھا ہوں۔اور کبھی ایک لحظہ کے لئے بھی نہیں چاہا کہ در بارشہرت کی کرسی پر بیٹھوں۔مجھے طبعا اس سے کراہت رہی کہ لوگوں میں مل کر بیٹھوں۔مگر امر آمر سے مجبور ہوں۔“ فرمایا۔” میں جو باہر بیٹھتا ہوں یا سیر کرنے کو جاتا ہوں اور لوگوں سے بات چیت کرتا ہوں۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے امر کی تعمیل کی بناء پر ہے۔“ گوشه گزینی کی عادت کے نتائج کی اصلاح جو شخص گوشہ گزینی کا عادی اور خلوت کا دلدادہ ہو یہ ظاہر بات ہے کہ اُسے باہر آنے میں ایک حجاب اور طبیعت پر ایک بوجھ معلوم ہوتا ہے۔وہ لوگوں سے ملنا پسند نہیں کرتا۔اور کم از کم اسے نفرت ہو جاتی ہے لیکن جس شخص کو قدرت نے باہر نکالا ہو۔اور نہ صرف نکالا ہو بلکہ اسے اصلاح خلق کا عظیم الشان کام سپرد کیا گیا ہو۔اُس کے لئے یہ فطرت مضر ہو سکتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو جب يَأْتُونَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ کی وحی فرمائی۔تو ساتھ ہی یہ بھی فرمایا۔لَا تُصَعِرُ لِخَلْقِ اللهِ وَلَا تَسْتَمُ مِنَ النَّاسِ۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان الہامات کا ہونا بتا تا ہے کہ آپ کو گوشہ گزینی سے محبت تھی۔آخر جس طرح خدا تعالیٰ کی مصلحت نے آپ کو پبلک میں نکالا۔اس نے آپ ہی وسعت اخلاق اور علو ہمتی کی اعلیٰ صفات ایسے رنگ میں پیدا کر دیئے کہ آپ کبھی لوگوں کی کثرت سے نہ گھبراتے تھے۔فرخ قادیانی کون تھا حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب قبلہ کی خدمت میں جوعریضہ آپ نے لکھا۔اس میں ایک شعر دیوان فرخ قادیانی سے نقل کیا۔ناظرین حیران ہوں گے کہ یہ فرخ کون بزرگ تھے؟ ان کی حیرانی زیادہ دیر تک نہیں رہے گی۔جب انہیں معلوم ہوگا کہ اس سے خود حضرت مرزا صاحب مراد ہیں۔آپ کے ہر قسم کے کلام اور تحریروں کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حقائق اور معارف کے بیان کرنے