حیاتِ احمد (حیاتِ احمد۔ جلد اوّل) — Page 98
حیات احمد ۹۸ جلد اوّل حصہ اول میری عمر کراہت طبع کے ساتھ انگریزی ملازمت میں بسر ہوئی۔آخر چونکہ میرا جدا رہنا والد صاحب پر بہت گراں تھا۔اس لئے ان کے حکم سے جو عین میری منشاء کے موافق تھا میں نے استعفا دے کر اپنے تئیں اس نوکری سے جو میری طبیعت کے مخالف تھی سبکدوش کر دیا اور پھر والد صاحب کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں۔اُن میں سے بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم اور صلوٰۃ کے پابند ہوں۔اور جوان جائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلا کے طور پر اُن کو پیش آتے رہتے ہیں۔میں ہمیشہ اُن کے منہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ ہو یا حرام کے ذریعہ سے محدود تھیں۔اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے مصروف پائیں۔میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم لوگ ایسے پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد کر کے اخلاق فاضلہ حلم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی مخلوق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پرہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں۔بلکہ بہتوں کو تکبر اور بد چلنی اور لا پروائی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پایا۔اور چونکہ خدا تعالیٰ کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک قسم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا۔اور بقول صاحب مثنوی رومی وہ تمام ایام سخت کراہت اور درد کے ساتھ میں نے بسر کئے۔من بہر جمعیتے نالاں شدم جفت خوشحالاں و بد حالاں شدم ہر کسے از ظن خود شد یا رمن از درون من نجست اسرار من ترجمہ: ( بنسری کہتی ہے) میں نے ہر مجلس میں اپنا رونا رویا، اور بُرے بھلے ہر قسم کے لوگوں کی صحبت میں رہی۔ہر شخص اپنے ظن کی بناء پر ہی میرا دوست بنا لیکن کسی نے میرے دل کے بھیدوں کے جاننے کی کوشش نہ کی۔