حیات شمس — Page 436
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 420 کی بعثت کی غرض تمام فرقوں کو یکجا اور متحد کرنا ہے اور اس شاہراہ پر لانا ہے جس پر خدا کا رسول اور صحابہ قائم تھے اور جس پر چاروں آئمہ چلتے تھے۔اگر امام مالک بھی اس وقت ہوتے تو وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیرو ہوتے۔اس کے بعد بھی وہ دو دفعہ تشریف لائے ایک دفعہ ایک سوڈانی طالب علم کولیکر آئے اور ایک دفعہ نماز جمعہ کیلئے۔نیز چوہدری صاحب کی دعوت پر ایک مسٹرایم ایس الیاس جو پی ایچ ڈی کی ڈگری کیلئے لنڈن آئے ہیں مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔ان سے سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی اور مطالعہ کیلئے لٹریچر دیا۔دوسرے مسٹرسیف الدین اور ان کے ہمراہ دو فلسطینی طالب علم اور مسٹر پر اشر ایم اے سٹوڈنٹ بھی آئے جن سے سلسلہ کے متعلق گفتگو ہوئی اور مطالعہ کیلئے لٹریچر دیا۔سیٹھ دوست محمد الہ الدین مسجد لنڈن میں خانصاحب سیٹھ محمد دوست الہ الدین صاحب نے جو ہمارے مکرم حضرت سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب کے بھتیجے ہیں ایک روز پارک لین ہوٹل سے ٹیلیفون کیا کہ وہ ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور مسجد میں نماز بھی ادا کریں گے۔22 دسمبر کا دن مقرر کیا گیا۔میں نے اس خیال سے کہ سیٹھ صاحب کا چند انگریز احمدی دوستوں سے تعارف کرایا جائے مندرجہ ذیل دوستوں کو مدعو کر لیا۔مسٹر عثمان سٹن، مسٹر منیر احمد سٹن، مسٹر خالد ڈکنسن ، مسٹر خیر اللہ مع لڑکے عمر ویلز کے، مسٹر بشیر الدین پلیز نیس ہمسٹر ظفر اللہ کوخ اور ان کے علاوہ کیپٹن لطیف آرنلڈ کو بھی بلالیا۔سیٹھ صاحب اپنے دوست نواب شیخ فتح علی اکبر کے ہمراہ تشریف لائے۔انگریز احمدی دوستوں سے ان کا تعارف کرایا۔کچھ دیر سیٹھ صاحب نے ان سے گفتگو کی۔اس کے بعد انہیں ساتھ کا مکان دکھایا جو اس سال خریدا گیا ہے۔قیمت معلوم کرنے پر کہنے لگے آپ نے تو مفت ہی لے لیا۔اب کونسل نے اسکی مرمت کرائی ہے اور اس میں پانچ فلیٹ بنادیئے ہیں۔موجودہ حالت میں اس کی قیمت لگی ہوگئی ہے بہت اچھے وقت میں خرید لیا گیا۔پھر سب نے مسجد میں مغرب کی نماز ادا کی۔مسٹر بشیر الدین پلیز منیس اور مسٹر منیر احمد سٹن نے اذان اور تکبیر کہی۔نماز کے بعد سب نے چائے پی۔سیٹھ صاحب نے فرمایا مجھے یہاں آکر بہت ہی خوشی ہوئی ہے نیز فرمایا کہ مسجد کی مرمت پر جو خرچ ہووہ مجھے لکھیں انشاء اللہ تعالیٰ میں ادا کروں گا۔ان کی اس زیارت کے متعلق ایک نوٹ اخبار وانڈ زورتھ برو نیوز میں زیرعنوان Indian Industrialist's Visit شائع ہوا۔الفضل قادیان 26 جنوری 1946ء)