حیات شمس

by Other Authors

Page 324 of 748

حیات شمس — Page 324

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 308 ایک دن چین فنڈ جمع کرنے کیلئے پنڈت جواہر لعل صاحب نہرو کو ایک پارٹی دی گئی تھی۔میں اس میں گیا۔پنڈت جواہر لعل صاحب نہرو نے پہلے اردو میں مختصر تقریر کی پھر اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔وہاں سے پھر میں ہائیڈ پارک گیا۔وہاں اب لیکچروں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔پہلے میں نے چند منٹ تقریر کی جس میں سورہ فاتحہ اور عیسائیوں کی دعا کا مقابلہ کیا۔پھر میر عبدالسلام صاحب نے تقریر کی اور سوالات و جوابات ہوتے رہے۔میں علیحدہ دوسری جگہ گفتگو کرتا رہا۔تین گھنٹہ وہاں رہے ایک آسٹریا کا نوجوان جوٹر کی وغیرہ بھی دیکھ چکا ہوا ہے واقف تھا اسے مسجد میں آنے کیلئے کہا اور اس کا پتہ لے لیا۔جمعہ کے روز صاحبزادہ مرزا ناصر احمد ناروے وغیرہ دیکھنے کیلئے تشریف لے گئے۔جمعہ کی نماز میں نومسلموں سے رشید آرنلڈ کی والدہ صاحبہ شامل ہوئیں۔اگلے اتوار کو مکر می سر محمد ظفر اللہ خان صاحب کا لیکچر تھا جس کیلئے سولہ سترہ خطوط لکھ کر بھیجے گئے۔اتوار کے روز پہلے ہائیڈ پارک گیا۔وہاں دوسرے لیکچراروں پر سوالات کئے۔پروفیسر عبداللہ بٹ صاحب کا دار التبلیغ میں لیکچر تھا۔وہ کیمبرج سے ایک بجے تشریف لے آئے۔حاضری سترہ اٹھارہ کے قریب تھی۔نو مسلموں میں سے مسٹر Harrise اور مسز رحیم اور مسز ایڈورڈ ز شامل ہوئے۔ٹرینیڈاڈ سے ایک شخص اور ایک عورت اپنی تین لڑکیوں کے ساتھ مسجد دیکھنے کیلئے آئے جو ہندوستان جارہے ہیں۔لڑکیاں وہاں تعلیم حاصل کریں گی۔امیر علی صاحب نے انہیں بھیجا ہے۔مولوی محمد علی صاحب اور مولوی آفتاب الدین صاحب کے نام ان کے پاس چٹھیاں ہیں۔جماعت کے متعلق میں نے انہیں بتایا اور اختلاف بھی بتایا اور قادیان میں گرلز سکول کے متعلق بھی انہیں تفصیل سے بتایا۔لڑکیاں صرف انگریزی زبان جانتی ہیں۔چار انگریز غیر مسلم بھی شریک جلسہ ہوئے۔ان میں سے ایک ڈاکٹر رسل فریز و تھے اور ان کے ساتھ ایک عورت تھی۔ان سے لیکچر کے بعد دو گھنٹہ تک گفتگو کی اور کتابیں بھی دیں۔جب ہم نے نماز پڑھی تو وہ بھی پیچھے ایک صف میں کھڑے رہے۔اب کتابیں مطالعہ کیلئے دی ہیں اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرمائے لیکچر سے پہلے میں نے قرآن مجید کی ایک آیت کی تفسیر کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات میں سے دو تین صفحات پڑھے۔Mr R۔Langridge ایک نوجوان، ایک عورت سمیت آئے۔مکرمی درد صاحب نے انہیں ملاقات کا وقت دیا ہو ا تھا لیکن چونکہ وہ یکم سے Sea side پر گئے ہوئے تھے میں نے ان سے ملاقات کی اور مسجد دکھائی اور چائے بھی پلائی۔ایک گھنٹہ تک ان سے گفتگو کی۔مسٹر Langridge نے