حیات شمس — Page 311
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 295 15 جولائی کو میں نے انہیں لکھا کہ وہ میرے پاس آکر ایک دن گزار ہیں۔چنانچہ وہ تشریف لائے اور ان سے مذہبی گفتگو ہوئی اور انہوں نے اسلام کو قبول کر لیا نیز یہ بھی کہا کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ اس لئے مسلمان نہیں ہو ا تھا کہ تا یہ نہ کہا جائے کہ میں اپنی والدہ کی وجہ سے مسلمان ہو گیا ہوں۔اسی شام کو ہم دونوں اکٹھے ان کے بڑے بھائی مسٹر لطیف آرنلڈ کے مکان پر گئے تو انہوں نے جاتے ہی انہیں السلام علیکم کہا تو وہ حیران ہو گئے۔پھر اس نے انہیں بتایا کہ میں بھی مسلمان ہو گیا ہوں۔یہ سن کر وہ بڑے خوش ہوئے۔الحمد للہ کہ یہ سارا خاندان مشرف باسلام ہو گیا ہے۔اللہ تعالیٰ استقامت عطا فرمائے۔اب ان کے دوسرے رشتہ داروں کو تبلیغ کی جائے گی۔خلیفہ نقطہ مرکز یہ ہوتا ہے جس طرح دائرہ کے تمام خطوط نقطہ مرکز یہ پر آ کر جمع ہو جاتے ہیں اسی طرح الہی سلسلہ کا نقطہ مرکز خلیفہ ہوتا ہے جہاں اس سلسلہ کے تمام خطوط آکر مل جاتے ہیں۔وہ مرکز میں ہوتا ہے لیکن اس کی تو جہات روحانیہ اور اشعائے نورانیہ ہر اس جگہ کام کر رہی ہوتی ہیں جہاں اس سے وابستگی اور تعلق رکھنے والے پائے جاتے ہیں۔یہ بات میں ظنی طور پر نہیں کہ رہا بلکہ یہ ایک حقیقت ہے جسے میں نے خود تجربہ کیا۔1927ء میں جب کہ میں دمشق میں تھا اور وہاں فرانسیسیوں اور دروز کی جنگ ہو رہی تھی اور بظاہر لوگوں سے ملاقات مشکل ہوتی تھی ان حالات میں حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اس امر کی طرف توجہ ہوئی اور حضور کا ارشاد بذریعہ ناظر صاحب دعوت و تبلیغ مجھے پہنچا کہ کام نہایت سست رفتار سے ہو رہا ہے لیکن قبل اس کے جو مجھے حضور کا یہ ارشاد پہنچے چار اشخاص جن میں سے کا د ایک سید منیر الحھنی تھے، سلسلہ میں داخل ہو چکے تھے اور حضور کو میں بیعت کے خطوط روا نہ کر چکا تھا۔سید منیر احصنی عربی، ترکی اور جرمن جانتے ہیں۔میں نے سمجھا کہ در حقیقت حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی توجہ مبارک کا اثر تھا کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قبولیت کی توفیق عطا فرمائی ورنہ بظاہر حالات اس کے مخالف تھے۔چنانچہ سید منیر الحصنی ایک نہایت مخلص اور جان نثار احمدی ثابت ہوئے جنہوں نے نہایت جانفشانی سے جماعت کی ترقی کیلئے ہرممکن کوشش کی اب وہ دمشق میں ایڈووکیٹ ہیں اور پریکٹس کر رہے ہیں۔اسی طرح اس سال حضرت امیر المومنین خلیل اسی اثنی ایدہ اللہتعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارشاد بذریعہ