حیات شمس

by Other Authors

Page 308 of 748

حیات شمس — Page 308

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس ڈاکٹر لیو ٹاف سے گفتگو 292 ڈاکٹر ریورنڈ پال لیونشاف پی ڈی ڈی سے مذکورہ بالا سوسائٹی میں ملاقات ہوئی۔جب میں نے عربی میں سوال کیا تو وہ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے بہت خوش ہوئے اور کہا کہ میں بھی عربی میں قرآن پڑھا ہوا ہوں۔اس وقت چونکہ ایک اور پادری سے گفتگو شروع ہو گئی اس لئے ان سے گفتگو نہ ہوسکی بعد میں میں نے ان کو فون کے ذریعہ دار تبلیغ میں آنے کی دعوت دی۔چنانچہ وہ تشریف لائے اور دو گھنٹہ تک ان سے گفتگو ہوئی زیادہ تر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق بائیبل میں پیشگوئیوں اور انجیل کی حیثیت پر ہوئی۔انہوں نے کہا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی سچا مانتا ہوں اور عیسائیت کو بھی ، قرآن پر بھی ایمان لاتا ہوں اور انجیل پر بھی۔میں نے کہا کہ معاف فرمائیں در حقیقت عدم تفکر کا نتیجہ ہے کیونکہ سچا ماننے کے تو یہ معنی ہیں کہ وہ جوتعلیم لائے ہیں اس کے مطابق عمل کیا جائے۔مثلاً آپ انجیل کی رو سے مانتے ہیں کہ مسیح صلیب پر مر گئے مگر قرآن کہتا ہے کہ وہ نہیں مرے۔اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے تو یہ معنی ہیں کہ مسیح کی صلیبی موت سے انکار کیا جائے وہ اس بات کو فوراً سمجھ گئے۔پھر انہوں نے کہا کہ مسیح کی الوہیت کا اس رنگ میں کہ وہ علیحدہ و مجسم خدا تھے میں قائل نہیں لیکن اس لحاظ سے کہ میسج میں خدا کی کامل تجلی ہوئی اور ان کے دل میں خدا کا نور اترا اور وہ لوگوں کیلئے کامل نمونہ تھے میں ان کی الوہیت کا قائل ہوں۔میں نے کہا دل میں خدا کا نوراترنے کی مثال ایسی ہے جیسے کہ سورج کی شعاع شیشہ پر پڑتی ہے اور اس کا عکس دوسری چیز پر پڑ کر اسے روشن کر دیتا ہے لیکن اس عکس کو سورج کہہ دینا غلطی ہے۔اسی طرح جتنا کسی شخص کا قلب صاف ہوگا اسی قدر وہ خدا تعالیٰ کی تجلی کا مورد ہو گا اور خدا کے نور سے منور ہو گا لیکن اس نورانی پر تو کو جو قلب صافی پر پڑتا ہے خدا کہنا درست نہیں ہے۔نیز کامل تجلی کا مور داور کامل نمونہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے نہ کہ مسیح علیہ السلام۔چنانچہ میں نے دونوں کا تفصیل سے مقابلہ کر کے دکھا دیا۔آخر میں انہوں نے کہا: "I admire You that You have vast knowledge of the Bible" یعنی آپ کی تعریف کرتا ہوں کہ آپ کو بائبل کی خوب واقفیت ہے۔انہیں تحفہ شہزادہ ویلیز کتاب مطالعہ کیلئے دی گئی۔اسی طرح ایک نوجوان مسٹر ایچ بیسٹ سے ایک سوسائٹی میں ملاقات ہوئی پھر انہیں دارد تبلیغ