حیات شمس — Page 254
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 238 مسیح ناصری وفات پاچکے ہیں۔اس فتویٰ کے شائع ہونے کا سبب یہ ہوا کہ برادرم عبدالکریم صاحب احمدی برطانوی فوج میں ملازمت کے سلسلہ میں مصر تشریف لے گئے۔انہوں نے ایک فتویٰ شیخ الا زہر سے وفات مسیح کے متعلق دریافت فرمایا۔شیخ الازہر محمود شلتوت صاحب نے قرآن مجید کی آیات اور احادیث سے استدلال کرتے ہوئے وفات مسیح کا عقیدہ اخبار الرسالۃ“ اور ” الازھر“ میں شائع کرایا اور ساتھ ہی لکھا کہ یہی عقیدہ شیخ الازہر مصطفے المرافی اور شیخ رشید رضا اور مفتی محمد عبدہ کا تھا۔اب مصر کے ترقی یافتہ طبقہ میں احمدیت کے مخصوص عقائد جیسے وفات مسیح ، قرآن کریم میں کوئی منسوخ آیت نہیں ، اور جہاد مشروط بشرائط ہے، مقبول ہو چکے ہیں۔صرف مسئلہ نبوت میں بعض اکابر کو اختلاف ہے لیکن اگر انہوں نے تحقیق جاری رکھی تو امید کی جاتی ہے کہ جیسے مذکورہ بالا عقائد میں انہوں نے احمدیت کا مسلک قبول کر لیا ہے، اسی طرح انشاء اللہ اس مسئلہ میں بھی احمدی نقطہ نگاہ سے متفق ہو جائیں گے۔وَمَا ذَلِكَ عَلَى اللهِ عَزِيز۔ریویو آف ریلیجنز اردو، جنوری 1947 ء صفحات 37-54) شمس الشرق حضرت مولانا شمس صاحب کی بلا دعر بیہ سے واپسی 30 ستمبر 1931ء کو قریباً سات سال بعد بلاد عربیہ میں خدمات عالیہ کی توفیق پا کر حضرت مولانا شمس صاحب براستہ مصر مرکز سلسلہ قادیان دارالامان کیلئے روانہ ہوئے اور اکتوبر میں قادیان دارالامان پہنچے۔آپ کی جگہ حضرت مولانا ابو العطاء صاحب نے مشن کا چارج لیا۔آپ کے بارہ میں حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب تحریر کرتے ہیں: وو اللہ تعالیٰ کے فضل اور جناب مولانا جلال الدین صاحب شمس کی مساعی جمیلہ سے ہر دو مقام پر اچھی جماعت قائم ہو چکی ہے۔میں 8 ستمبر 1931ء کو احباب سے ملا۔سب دوستوں نے (الفضل قادیان 15 اکتوبر 1931ء) نہایت محبت اور خلوص کا اظہار فرمایا۔ہلا دعر بیہ میں تبلیغ احمدیت اور حضرت مولانا شمس صاحب ( حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالندھری) مولانا جلال الدین صاحب شمس کے والد ماجد کو اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بخشی کہ وہ اوائل زمانہ