حیات شمس

by Other Authors

Page 99 of 748

حیات شمس — Page 99

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 99 تھے۔1930ء میں جب میں گھوڑی پر سوار پکیو اں کے راستے قادیان سے بدوملہی گیا اور وہاں ایک رات رہا تو ان کے اعزہ نے مجھے وہ بڑھ ( برگد ) دکھایا جس کے نیچے وہ مناظرے ہوئے تھے۔ایک آریہ سے اور ایک مولوی صاحب سے۔(الفضل ربوہ 17 نومبر 1966ء) مباحثہ کلانور یہ مباحثہ اگست 1920ء کو ہوا تاہم اس کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی۔اس مباحثہ کا ذکر حضرت مولانا شمس صاحب نے ” مباحثہ سار چھو ڑ میں کیا ہے۔مباحثہ سار چور بر مسئله حیات و ممات مسیح 99 یہ مباحثہ مولانا شمس صاحب اور مولوی عبد اللہ صاحب مولوی فاضل غیر از جماعت کے مابین ہوا۔اس مباحثہ کو بعد میں محترم میاں محمد یامین صاحب تاجر کتب قادیان نے شائع کیا جس کے 40 صفحات ہیں۔” مباحثہ سار چور وہ مباحثہ ہے جس کی وجہ سے حضرت مولانا صاحب کو خاصی شہرت ملی۔راقم کو سار چور کی بعض شخصیات سے ملنے کا اتفاق ہوا۔وہ اپنے گاؤں کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ ” مباحثہ سار چو رہی بتاتے ہیں۔ضمناً موضع سار چور کے بارہ میں عرض کرتا چلوں۔موضع سارپور ( تحصیل بٹالہ ) قادیان سے پینتیس چھتیس کلو میٹر پر واقع ہے اور بٹالہ سے قریباً بارہ کلو میٹر جبکہ علی وال نہروں والے سے پانچ کلومیٹر دور ہے۔یہ تحصیل بٹالہ کا آخری گاؤں ہے جو ضلع امرتسر کی باؤنڈری لائن سے ملحق ہے۔“ عدالت عالیہ تک کا سفر خودنوشت سوانح جسٹس محمد اسلام بھٹی ، بار اول، لاہور: نیازمانہ پبلشر ، 2008 ، صفحہ 16) حضرت مولا نائٹس صاحب اس مباحثہ کے بارہ میں رقمطراز ہیں : 31 اگست و یکم ستمبر 1920ء کو موضع سارپور جو ضلع گورداسپور تحصیل بٹالہ میں مابین احمدیان و غیر احمدیان ایک زبر دست مباحثہ مسئلہ حیات و وفات مسیح پر ہوا۔وجہ اس مباحثہ کے قیام کی یہ ہوئی کہ ایک شخص مستمی محمد اسماعیل (جو اپنے آپ کو باوجود علوم دینیہ سے نابلد ہونے بز مرہ مولویان شمار کرتا تھا۔حالانکہ قرآن مجید بھی صحیح نہیں پڑھ سکتا تھا۔شب و روز احمدیت کے خلاف شعر کہنا اس کا کام تھا۔اس کے اشعار کی کیفیت یہ ہے کہ نہ قافیہ ٹھیک نہ وزن برابر نہ ردیف کا لحاظ ) موضع سار چور میں بغرض وعظ آیا اور لوگوں کو احمدیت کے خلاف بہکایا اور گورنمنٹ کے خلاف عوام الناس کو بھڑ کا یا۔احمدیوں نے اس کا مقابلہ کیا۔اس