حیات شمس — Page 649
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس تھی اک شرح موطا اُن کی اپنی بڑی شفت سے وہ مجھ کو عطا کی غرض سیکھا بہت کچھ میں نے اُن سے ہوں اُن پر رحمتیں بے حد خدا کی بلا وا حق سے جب آیا اچانک تو جاں تن سے سفر ہی میں جُدا کی ملے گی عمر پینسٹھ سال ان کو ازل سے تھی یہی مرضی خدا کی الہی تو عظیم المغفر نہیں۔ہے حد تیری بخشش اور عطا کی وہ بے شک تھا ترا ایک نیک بندہ تو کردے مغفرت اس باوفا کی رہے سایہ تری رحمت کا اس پر ملے جنت میں قربت انبیاء کی اگر تقویٰ نہیں ہے تجھ میں صدیق عبادت تو نے کچھ کی بھی تو کیا کی زندگی کردار ہے، کردار تو فافی نہیں 617 (ماہنامہ الفرقان جنوری 1968ء) از محترمه سعیدہ بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت مولانا شمس صاحب) آہ ! کیوں غمناک سے ہیں اب مرے شام و سحر چھا رہی ہے ایک ویرانی سی تا حد نظر دور تک پھیلی ہوئی ہیں، درد کی پر چھائیاں پیکر افسردگی ہیں ذہن و دل کے بام و در روح سے لیٹے ہوئے ہیں غم کے سائے ، اُف خدا زندگی لے آئی مجھ کو سسکیوں کے موڑ پر دن گزر جاتا ہے میرا سوزش آلام میں آنسوؤں کے موتیوں کو رولتی ہوں رات بھر