حیات شمس — Page 323
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 307 موومنٹ اور احمد یہ الہم اسے کتب دی گئیں۔اس نے کہا آج سے پہلے میں نے کبھی آپ کی جماعت کے ( ۱۰ ) Mr Gregson اپنی لڑکی سمیت مسجد دیکھنے کیلئے آئے ان سے بھی کچھ دیر مذہبی گفتگو ہوئی۔(11) Mr S۔R۔Sedwing مسجد دیکھنے کیلئے آئے۔سلسلہ کے متعلق اور اسلام اور عیسائیت کی تعلیم کے مقابلہ پر ان سے گفتگو ہوئی انہوں نے بعض کتب بھی خریدیں۔رومن کیتھولک کو دوسرے مذاہب کی کتاب پڑھنے کی ممانعت میں نے اپنے ہمسایہ کو چائے کی دعوت دی اور ان سے مذہبی گفتگو بھی کی۔انہوں نے کہا کہ سب مذہب اچھے ہیں۔میں نے کہا کہ اسلام دوسرے مذاہب کی خوبیوں کا انکار نہیں کرتا لیکن وہ اپنے آپ کو ان تمام خوبیوں کا جامع قرار دیتا ہے جو دوسرے مذاہب میں متفرق طور پر پائی جاتی ہیں۔آخر میں میں نے ان سے کہا اگر میں آپ کو کوئی کتاب دوں تو کیا آپ اس کا مطالعہ فرمائیں گے؟ کہنے لگے اگر آپ برا نہ منائیں تو میں کہہ دوں ہم رومن کیتھولک ہیں۔ہم دوسرے مذاہب کی کتاب نہیں پڑھتے۔میں نے کہا دوسرے مذاہب کے متعلق علم حاصل کرنا بری چیز نہیں ہے بلکہ اچھی ہے۔پولوس نے خود لکھا ہے کہ تم ہر چیز کا امتحان کرو۔پھر جو اچھی چیز ہوا سے اختیار کرو۔کتابیں پڑھنے سے کس نے آپ کو منع کیا ہے ؟ اس نے کہا ہمارے پادریوں نے۔میں نے پوچھا کیوں؟ کہنے لگا کہ اگر وہ دوسری کتابیں پڑھیں تو ان سے متاثر ہو کر گرجوں میں جانا چھوڑ دیتے ہیں۔میں نے کہا اس سے معلوم ہوا کہ پادریوں کو اپنے مذہب کی کمزوری کا علم ہے اس لئے وہ لوگ اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ وہ حقیقت سے واقف ہوں مگر کیا کوئی عقل مند انسان ان کی اس بات کو قبول کرنے کیلئے تیار ہو سکتا ہے؟ آپ تو ہمارے ہمسایہ ہیں۔مجھے آپ کے مذہب سے واقفیت ہے۔اگر کوئی آپ سے ہمارے متعلق دریافت کرے کہ آپ کے ہمسایہ کیا مذہب رکھتے ہیں تو آپ اسے کیا بتا سکتے ہیں؟ کچھ نہیں۔پس آپ کو تو ہمارا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے بھی ہمارے مذہب کے متعلق علم حاصل کرنا چاہیے۔آخر اس نے کہا بہت اچھا آپ مجھے کتابیں دیں میں ضرور پڑھوں گا۔۔پنڈت جواہر لعل نہرو کی پارٹی میں شرکت حضرت مولوی جلال الدین صاحب شمس لنڈن سے لکھتے ہیں :