حیات شمس — Page 302
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس بعض انگریزوں کا قبول اسلام 286 ( حضرت مولانا جلال الدین شمس) محض ہمارے پیارے آقا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور احباب کی دعاؤں کا نتیجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسٹر اور مسز آرنلڈ کو قبولیت اسلام کی توفیق عطا فرمائی اور 29 مارچ (1937ء) کو انہوں نے بیعت فارم پر دستخط کر دیئے جو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز امیرالم کی خدمت میں بھیج دیئے گئے۔مسر آرنلڈ کے والد ڈاکٹر Caribell تھے جو ڈیرہ دون میں ڈاکٹری کا کام کرتے اور سردار یعقوب خاں کے فیملی ڈاکٹر تھے۔اس کے علاوہ آنریری مجسٹریٹ اور میونسپلٹی کے سیکرٹری بھی رہے۔مسٹر آرنلڈ کے دادا ہندوستان میں فوج کے کرنیل کے عہدہ پر ممتاز تھے۔مسنز آرنلڈ کچھ اردو جانتی ہیں اور مسٹر آرنلڈ انگریزی، سپینش ، فرنچ اور Catalan زبانیں اچھی طرح جانتے ہیں۔دونوں نے بڑے شوق سے مذہبی مسائل کے متعلق تحقیق کی اور کئی دن ان کے مکان پر ان سے تین تین گھنٹہ تک ان مسائل پر جو عیسائیت اور اسلام میں مختلف فیہ ہیں گفتگو ہوئی۔ان میں سے ایک دو مسائل کا اختصار کے ساتھ ذکر کرتا ہوں۔الوہیت مسیح کے متعلق گفتگو مسٹر آرنلڈ نے مجھے کہا کہ میری بیوی الوہیت مسیح کی قائل ہیں اور وہ خیال کرتی ہیں کہ مسیح سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہو سکتا ہے جب میں دوسری مرتبہ ان کے مکان پر گیا تو مسٹر آرنلڈ سے کہا کہ آپ انجیل اپنے ہاتھ میں لے لیں اور یوں یوحنا باب 7 آیت 6 تا 10 دیکھیں۔پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی اس میں یہ ذکر ہے کہ یسوع کے بھائیوں نے اس سے کہا کہ تو بھی ہمارے ساتھ عید کے موقع پر یہودیا میں چل اور وہاں اپنے عجائب کام دکھا۔اس نے کہا کہ میں اس عید پر نہیں جاؤں گا تم چلے جاؤ لیکن جب اس کے بھائی چلے گئے تو وہ بھی پوشیدہ طور پر وہاں چلا گیا۔میں نے کہا کیا یہ صریح دھو کہ اور غلط بیانی نہیں تھی کہ انہیں تو کہہ دیا کہ میں نہیں جاؤں گا مگر بعد میں پوشیدہ طو پر وہاں چلے گئے۔پھر یوحنا 8:10 کی یہ عبارت پڑھائی کہ تمام وہ جو اس سے پہلے آئے وہ چور اور ڈاکو تھے اور پھر خود ہی یہ تعلیم دی کہ ماں باپ کی تعظیم کرنی چاہیے (متی 19:19) لیکن اس کی والدہ اور بھائی باہر کھڑے رہے اور کسی