حیات شمس

by Other Authors

Page 206 of 748

حیات شمس — Page 206

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 190 سمجھ سکتا ہے کہ مستقبل نہایت خوفناک ہے۔فلسطینی شراب خانوں کو دیکھو تو اکثر مسلمان دکھائی دیں گے۔قید خانے مسلمانوں سے بھرے پڑے ہیں کہ قیدیوں میں ایک یا دو یہودی قیدی ہوں گے باقی سب مسلمان۔محکموں وغیرہ میں یہودی یا مسیحی دکھائی دیتے ہیں، مسلمان شاذ و نادر اور علماء ہیں جو ابھی تک لوگوں کو علوم جدیدہ پڑھنے سے روکتے ہیں۔بہائیت اور عیسائیت کے متعلق گفتگو ایک بڑے عالم سے میں نے بہائیت اور مسیحیت کے متعلق گفتگو کی۔باوجود یکہ یہاں بہائیت کا مرکز ہے اسے ان کے مذہب کے متعلق کچھ علم نہ تھا۔جب میں نے اسے بہائیوں اور مسیحیوں سے اپنے مباحثات کا ذکر سنایا تو خوش ہوا اور کہنے لگا کہ آپ تمام ادیان سے خوب واقف ہیں آپ نے کہاں تعلیم پائی ہے۔میں نے کہا ایک چھوٹی سی بستی میں جس کا نام قادیان ہے۔بہت سے لوگوں نے مجھ سے پادریوں کے اعتراضوں کے جوابات نہایت دردناک لہجہ میں دریافت کئے اور تمام اعتراضات اس قسم کے تھے کہ مسیح مردوں کو زندہ کرتا تھا۔وہ وجيها في الدنيا والاخرۃ تھا اور روح اللہ تھا۔مرنے کے بعد زندہ ہو گیا اور پھر آسمان پر جا بیٹھا۔میں نے اس زہر کے ازالہ کیلئے وہ تریاق پیش کیا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لائے ہیں۔جب وہ جوابات سنتے تو انہیں اطمینان حاصل ہو جاتا اور ان میں ایک ہمت اور جرات پیدا ہو جاتی کہ اب ہم پادریوں کو یہ جواب دیں گے۔میں یہ خط لکھ رہا تھا جو شام سے ایک دوست کا خط ملا جس میں اس کے بیٹے نے قدس سے اسے لکھا ہے کہ 250 پادری امریکہ سے نئے آئے ہیں جو ان شہروں میں تبلیغ کریں گے۔بعض نوجوانوں نے ان میں سے بعض پر پتھر پھینکے۔سنا گیا ہے کہ ایک ان میں سے مرگیا ہے۔پندرہ اشخاص اس جرم میں ماخوذ ہیں۔تبلیغ مسیحی کے مقابلہ کیلئے جو طریق مسلمان تجویز کر رہے ہیں نہایت غلط طریق ہے۔اس کے نتیجہ میں سوائے نقصان کے اور کچھ نہ حاصل ہوگا کیونکہ بات کا جواب پتھر اور اینٹ سے نہیں ہوسکتا۔یہاں کے علماء بھی ایک مضبطہ تیار کر رہے ہیں جس پر مسلمانوں کے دستخط کروا رہے ہیں پھر حکومت کے سامنے پیش کرینگے۔خلاصہ مضمون یہ ہے چونکہ بہت بلاد بلا داسلامیہ ہیں اس لئے یہاں سے پادریوں کو نکال دینا چاہئے اور کسی کو یہاں تبلیغ کی اجازت نہ دی جائے ورنہ قتل تک نوبت پہنچے گی اور