حیات شمس — Page 159
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 159 کو ایمان سے بالکل خالی پایا۔بظاہر تو وہ اقرار کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برحق ہیں ، قرآن مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے مگر تھوڑا سا کرید کر جب دریافت کیا جائے تو ان کے قلوب ایمان سے بالکل خالی ہیں اور جو ان میں سے صالح ہیں وہ نہایت ہی قلیل تعداد میں ہیں اور دوسرے مشائخ سے ڈرتے ہیں۔نئی تعلیم یافتہ پارٹی میں سے قریباً اٹھاون فیصد ہیں جو دین سے متنفر اور امور دین کو استہزاء کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اکثر ان میں سے طبعی ہیں اور اپنے آپ کو اس وجہ سے مسلمان کہتے ہیں کہ ان کے باپ دادا مسلمان ہیں۔یہ خیال کہ یہ لوگ جلدی جلدی ہماری باتوں کو قبول کر لیں گے صحیح نہیں ہے الا ما شاء اللہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نور الحق میں فرماتے ہیں : " اور بھائیو! یہ بھی تمہیں معلوم رہے کہ دیار عرب میں کتابوں کے شائع کرنے کا معاملہ اور ہماری کتابوں کے عمدہ مطالب عرب کے لوگوں تک پہنچانا کچھ تھوڑی سی بات نہیں ہے، بلکہ ایک عظیم الشان امر ہے اور اس کو وہی پورا کر سکتا ہے جو اس کا اہل ہو۔کیونکہ یہ بار یک مسائل جن کے لئے ہم کافر ٹھہرائے گئے اور جھٹلائے گئے کچھ شک نہیں کہ وہ عرب کے علماء پر بھی ایسے ہی سخت گذریں گے جیسا کہ اس ملک کے مولویوں پر سخت گزر رہے ہیں۔بالخصوص عرب کے اہل بادیہ کو تو بہت ہی ناگوار ہوں گے کیونکہ وہ بار یک مسائل سے بے خبر ہیں اور وہ جیسا کہ حق سوچنے کا ہے سوچتے نہیں اور ان کی نظریں سطحی اور دل جلد باز ہیں مگر ان میں قلیل المقدار ایسے بھی ہیں جن کی فطرتیں روشن ہیں اور ایسے لوگ کم پائے جاتے ہیں۔نور الحق حصہ اول صفحہ 18 ، روحانی خزائن جلد 8 صفحہ 25) یہاں کے علماء ہندی علماء سے زیادہ متعصب ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسیح موعود علیہ السلام یہاں دمشق میں نازل ہونگے۔ایک ٹریکٹ شئی من عقائد الجامعة الاحمدیہ کے عنوان سے لکھا تھا جس کا ایک شیخ نے جو بالکل مولوی محمد حسین بٹالوی کا مثیل معلوم ہوتا ہے جواب شائع کیا ہے اور خوب دل کھول کر گالیاں دی ہیں۔اس کی ایک سطر نقل کرتا ہوں مجھے مخاطب کر کے لکھتا ہے كل شخص منكم كافر ملحد، مجوسی،مشرک، کذاب، مفتر افاک اثیم یہ سطر پڑھ کر بے ساختہ زبان پر حضرت مسیح موعود کا شعر آیا: 66 کافر و ملحد , دجال ہمیں کہتے ہیں نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے