حیات شمس

by Other Authors

Page 98 of 748

حیات شمس — Page 98

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 98 شائع شدہ ہے۔پادری عبدالحق سے آپ کے مناظرات ہوئے۔جلال پور جٹاں ضلع گجرات میں شیعوں سے آپ کا مشہور مناظرہ ” کلمۃ الحق“ شائع شدہ ہے۔[اس مناظرہ میں اصل مناظر حضرت حافظ روشن علی صاحب تھے جبکہ آپ کی معاونت کیلئے نیز پرچے پڑھنے کیلئے حضرت مولا نائٹس صاحب موصوف تھے۔اس مناظرہ کا ذکر اس باب میں آئندہ صفحات میں شامل ہے۔مؤلف۔] پنجاب میں بالخصوص اور دوسرے صوبوں کے بڑے بڑے شہروں میں بالعموم آپ کے کامیاب لیکچر ہوئے۔آپ کا بیان نہایت سادہ ہوتا تھا مگر ٹھوس دلائل سے پُر ہوتا تھا اور سامعین نیا علم لے کر گھروں کو واپس جاتے تھے۔جن جن علاقوں میں آپ مناظرہ یا لیکچر کیلئے تشریف لے گئے آج تک ان علاقوں کے احباب آپ کی تعریف میں رطب اللسان ہیں اور آپ کو یاد کرتے ہیں۔مناظروں اور لیکچروں کے نتیجہ میں بہت سے احباب کو سلسلہ میں (الفضل ربوہ 3 دسمبر 1966ء) شمولیت کی توفیق ملی 1917ءمیں ” پکیواں“ کا مناظرہ مولا نا صاحب کی زندگی میں مباحثوں اور مناظروں کا آغاز 1917ء میں شروع ہو گیا تھا جبکہ آپ حضرت حافظ روشن علی صاحب اور حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل کے تلمذ میں مناظروں میں جانا شروع ہو گئے۔بقول حضرت مولوی غلام احمد صاحب بدوملہی : مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ 1916ء میں مولانا عبد الرحمن صاحب فاضل نے اپنے شکر گڑھ کے دورے کا حال سنایا تو بتایا کہ وہاں ایک دیہاتی ملاں نے قرآن کریم میں واتبــعــوا مــلــة ابراهيم حنیفا میں واؤ (و حنیفا ) اپنی قلم سے لکھ کر یہ مشہور عام کیا ہو اتھا کہ قرآن کریم میں امام ابو حنیفہ کی اتباع کا حکم ہے۔ملحقہ دیہات میں اس طرح دورہ کرنے کے نتیجے میں کسی مولوی سے گفتگو کا موقعہ ملتا جو ہم لوگوں کے مناظرہ کا فن سیکھنے کا موجب ہوتا۔ایسے مکالمے اور ایسے تبادلہ خیالات 1916ء کی چھٹیوں سے ہی ہماری کلاس کے شروع ہو گئے۔1917ء میں تو پھر رپورٹیں بھی اخبارات میں شائع ہونے لگیں۔اس سلسلہ میں محترم مولوی جلال الدین شمس کا مناظرہ پیواں پہلی دفعہ منظر عام پر آیا۔موضع پکیواں میں ان کے کچھ اعزہ رہتے