حیات شمس — Page 50
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 50 جائے۔ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ محترم شمس صاحب کے بھائی بشیر احمد صاحب بیمار ہو گئے اور خیال کیا گیا کہ ان کو طاعون ہو گیا ہے۔شمس صاحب کے والد صاحب قادیان گئے اور حضور کی مجلس میں بیٹھے تو حضور نے از خود دریافت فرمایا کہ میاں امام دین کے لڑکے کے متعلق وہ کیا بات ہے۔حضرت موصوف نے عرض کیا کہ اس کو گلٹیاں سی نکل آئی ہیں اور عام لوگ خیال کرتے ہیں کہ طاعون ہے۔آپ نے فرمایا دیکھو! جس کو ہم جانتے ہیں اس کو طاعون نہیں ہوسکتی۔حضور کے یہ فرمانے کے بعد وہ طاعون کی گلٹیاں غائب ہوگئیں اور ایک لمبے زمانہ تک بشیر احمد صاحب زندہ رہے۔ان کی شادی خواجہ محمد شریف صاحب آف قادیان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ بیگم سے ہوئی۔جن سے چار بچے ہوئے۔دولڑ کے اور دولڑ کیاں۔حضرت مولانا شمس صاحب کا اخلاص اس جگہ یہ ذکر کرنا مناسب ہوگا کہ جس وقت حضرت مولانا شمس صاحب تبلیغ کی خاطر کہا بیر ( فلسطین) میں مقیم تھے، آپ کو اپنے بھائی بشیر احمد صاحب کی وفات کا تار ملا اس کے ایک گھنٹہ بعد قاضی اور مشائخ مع چالیس اوباشوں کے حیفا سے کہا بیر کے گاؤں پہنچے اور شور مچایا کہ ہم مباحثہ کیلئے آئے ہیں۔حضرت شمس صاحب فرماتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان ہے اس وقت مجھے سب ہموم و عموم کو چھوڑ کر ان کا مقابلہ کرنا چاہئے۔احمدی احباب نے روکا اس ڈر سے کہ کہیں فساد نہ ہو جائے لیکن میں نے کہا کہ اگر میں ان کے سامنے نہ گیا تو کہیں گے بھاگ گئے۔آپ نے ان سے مناظرہ کیا جس میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔چنانچہ اس کے بارہ میں آپ کا بیان ہے: رئیس الجمعیۃ الاسلامیہ نے مجھ سے بہت سے سوالات کئے جن کے میں نے جوابات دیئے اور آخر کار متعجب ہو کر کہنے لگا آپ نے تمام علوم اور عربی زبان کہاں سیکھی ہے۔میں نے کہا قادیان سے۔پھر مدرسہ احمدیہ قادیان کے نظام کے متعلق بتایا۔دو گھنٹہ تک مباحثہ کر کے واپس چلے گئے۔راستے میں جو احمدی ان کے ساتھ تھے۔ان سے مراد اصفہانی کے متعلق کہا گیا کہ یہ عیسائی ہے۔اس نے خوب انا جیل کا مطالعہ کیا ہوا ہے جن سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا مگر دوسرے دن حیفا کے احمدیوں نے خبر بھیجی کہ آپ کے پاس کل مراد الاصفہانی اور فلاں شخص آئے تھے۔اس کے بعد اس کیلئے کہا بیر