حیات شمس — Page 650
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس کس لئے یہ تلخیاں، یہ رنج ہیں میرے لئے اور پھر خاموش ہو جاتی ہوں یہ سب سوچ کر موت کی ہنگامہ آرائی بچ سکتا ہے کون؟ گور کی بے درد تنہائیوں سے بچ سکتا ہے کون ؟ ابتداء سے زندگی کا بس یہی معمول ہے چار دن کی زندگی پھر لحد کی دھول ہے آپ کو بھی اس سفر پر لے گیا میرا خدا میں اگر شکوے کروں تو یہ مری ہی بھول ہے زندگی کردار ہے کردار تو فانی نہیں جو شگفتہ رہتا ہے ہر دم یہی وہ پھول ہے کبھی آپ کے کردار کی عظمت کو بھولیں ہم ہماری ہی نہیں انسانیت کی بھول ہے سچ کہیں گر ہم تو زندہ ہیں فقط اس کے لئے آپ کی اقدار کی یادوں میں دل مشغول ہے پھولتی ہے احمدیت آپ کی تحریر جھومتی تھی احمدیت آپ احمدیت آپ کی تقریر ނ احمدیت میں تھی ڈوبی زندگانی آ زندگانی آپ کی روح دین مصطفه ނ ہر طرح تھی جنت کی فضاؤں میں سدا دلشاد ہوں آپ کے ہمدوش ہوں فضل و رضائے ایزدی 618