حیات شمس — Page 628
حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین شمس 596 شیدائیت کا ثبوت دیا۔خلافت ثالثہ کے قیام پر آپ کی معرکۃ الآراء تقریر بھی اس امر کا بین ثبوت ہے کہ آپ کو خلافت حقہ سے والہانہ عقیدت و محبت اور فدائیت عطا ہوئی تھی۔الغرض حضرت مولانا شمس بہت سی خوبیوں اور صفات حسنہ کے مالک تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دلی محبت اور بچے فدائی تھے۔آپ نے سلسلہ حقہ کی خاطر چھرے کے وار برداشت کئے اور ساری عمر دینی جہاد میں صرف کر دی۔ان کی اچانک وفات ہم سب کیلئے بے حد صدمہ کا باعث ہوئی۔ہم (ماہنامہ الفرقان، جنوری 1968ء) سیکھوانی برادران کی سادہ فطرت و اخلاص کے رنگ میں رنگین حضرت مولانا شمس صاحب تاثرات مکرم ومحترم مولانا سید عبدالحی شاہ صاحب، ناظر اشاعت ربوہ) سلسلہ کے لٹریچر میں سیکھوانی برادران کی سادہ فطرت، اخلاص اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے عاشقانہ اور عقیدت مندانہ تعلق کا جو ذکر آتا ہے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اس رنگ میں رنگین اور انہی بزرگوں کا تسلسل تھے۔الحمد للہ ! خاکسار کوحضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ ان کے ناظر اصلاح وارشاد مقرر ہونے سے وفات تک کام کرنے کا موقعہ ملا ہے۔حضرت شمس صاحب بہت شفیق افسر تھے اور نکتہ نواز تھے۔انتہائی بے نفس اور سلسلہ کے کاموں میں مشقت اٹھانے والے تھے۔مجھے ان کے ساتھ بعض سفروں میں ساتھ جانے کا موقعہ ملا ہے۔انہیں شدید گرمی میں بھی سلسلہ کیلئے سفر کرنے پڑے۔عام بس میں سفر کرتے تھے۔راستہ میں کوئی گرم یا سرد مشروب یا کھانے کی چیز قبول نہیں کرتے تھے۔جہاں ان کے عزیز ہوتے تو جماعتی نظام کے تحت رہنے کی بجائے عزیزوں کے ہاں ہی ٹھہر تے۔لاہور میں ان ایام میں ان کے بڑے صاحبزادے ڈاکٹر صلاح الدین میڈیکل ہوٹل میں رہتے تھے۔کھانا ان کے پاس ہی کھاتے اور سامنے جودھا مل بلڈنگ یا سیمنٹ بلڈنگ میں ان کے ایک عزیز کے ہاں ان کا قیام ہوتا۔جہاں ان کے عزیز موجود نہ ہوتے باوجود احمدیوں کے اصرار کے مربی سلسلہ کی قیام گاہ پر ہی ٹھہرتے۔ایک دفعہ میرے دریافت کرنے پر آپ نے بتایا کہ ان کے استاد حضرت حافظ روشن علی صاحب نے انہیں نصیحت کی تھی کہ مولوی کھانے پینے میں بدنام ہیں اس لئے کوشش کرنا کہ جماعتوں میں جا کر اپنے دامن کو صاف رکھنا۔