حیات شمس

by Other Authors

Page 626 of 748

حیات شمس — Page 626

۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 594 بہترین منتظم بھی تھے۔اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے فضل سے اپنی زندگی میں قریباً ہر میدان میں اپنی قابلیت کے جو ہر دکھانے کا موقعہ عطا فر مایا چنانچہ ذیل میں چند امور کا نہایت اختصار کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ اور زبان کو اپنے دین کی خدمت کے لئے اپنے خاص نور سے منور و معمور کر رکھا تھا اور آپ کو اعلیٰ درجہ کی تقریر کا ملکہ عطا فر مایا تھا۔آپ اپنی جوانی کے ایام میں نہایت تیز مقرر تھے۔عنفوانِ شباب میں ہی آپ نے بڑے بڑے تبلیغی معر کے سر کیے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے میدان تقریر میں ایسا سکہ بٹھایا کہ بڑے سے بڑے مخالف علماء بھی اُن کے نام سے ڈرتے تھے۔آپ کو اُردو زبان کے علاوہ عربی اور انگریزی زبان پر بھی عبور حاصل تھا۔چنانچہ آپ نے اپنے عرصہ قیام فلسطین، شام و مصر وغیرہ ممالک عریبہ کے دوران بڑے بڑے علماء کو دعوتہائے مقابلہ دیں اور بہت ساعر بی لٹریچر سلسلہ کی تائید میں شائع کیا اور عرصہ قیام انگلستان میں بھی کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیا اور لاٹ پادریوں کو مقابلہ کیلئے بلایا اور تقریری وتحریری ہر دو رنگ میں شاندار خدمات بجا لائے اور نہ صرف ?Where did Jesus die جیسی شاندار اور لاجواب کتاب تصنیف فرمائی بلکہ اور بہت سا لٹریچر انگریزی زبان میں شائع کیا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو فن مناظرہ میں بھی خاص ملکہ اور مہارت عطا فرمائی تھی تھی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری جو بزعم خود فاتح قادیان“ کہلاتے تھے انہیں بھی حضرت مولانا شمس کے مقابل پر آنے میں تر در ہوتا تھا۔آپ نے اپنی زندگی میں بہت سے مناظرے کئے۔مخالف علماء کو آپ کے دلائل توڑنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔فن مناظرہ میں مہارت کے علاوہ آپ کو اعلیٰ درجہ کی قوت استدلال بھی ودیعت ہوئی تھی اور آپ اعلیٰ درجہ کے نئے نکات بیان فرماتے تھے۔آپ نے سلسلہ کے خلاف غیر از جماعت لوگوں کی طرف سے کھڑے کئے گئے بعض مقدمات میں سلسلہ کی نمائندگی فرمائی۔چنانچہ مقدمہ بہاولپور اس کی عمدہ مثال ہے آپ نے جس قابلیت سے مقدمہ کی پیروی کی اور مخالفین کے اعتراضات کے جواب دیئے، وہ آپ ہی کا حصہ تھا۔1953ء کے فسادات پنجاب سے متعلقہ تحقیقاتی عدالت میں مولوی مودودی وغیرہ مخالفین کے تحریری بیانات پر تبصرہ صرف چند دنوں میں تیار کر کے شائع کرنا بھی آپ کی اعلیٰ درجہ کی قوتِ استدلال کا بین ثبوت ہے جس میں مخالفین کے بیانات کے تارو پود بکھیر کر رکھ دیئے گئے ہیں۔آپ کو نہ صرف تقریر کا خاص ملکہ حاصل تھا بلکہ آپ ایک عمدہ مصنف بھی تھے چنانچہ آپ نے عربی ، انگریزی اور اُردو میں بہت