حیات شمس — Page 624
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 592 کے ساتھ مناظرے ( کاش کہ جماعت کے وہ بزرگ لوگ جنہوں نے حضرت مولانا شمس صاحب کے مناظرے خود سُنے ہیں وہ ان مناظرات کی تفاصیل اور سامعین پر ان کے اثرات وغیرہ لکھ کر سلسلہ کے کسی اخبار یا رسالہ میں شائع کرا دیں تا کہ یہ قیمتی یادداشتیں جو ابھی تک سینوں میں مخفی ہیں تحریر میں آ کر محفوظ ہو جائیں ) کیے اور ہر میدان میں اُن کو شکست دی۔جن لوگوں نے حضرت شمس صاحب کے مناظرے سنے ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ اُن کی زبان میں کس غضب کی روانی تھی اور کس طرح معترض کو لا جواب کر دیتے تھے۔تقریر سُن کر غیر احمدی بھی عش عش کر اُٹھتے اور اُن کے حسنِ بیان کی داد دیتے تھے۔جس نے ایک بار شمس صاحب کا مناظرہ سُنا وہ پھر بھی سننے کی تمنا کرتا تھا۔شمس صاحب کے ذریعہ کئی لوگوں نے ہدایت پائی۔کئی لوگوں کی احمدیت کے بارہ میں غلط فہمیاں دور ہوئیں۔اگر چہ اللہ تعالیٰ نے حضرت شمس صاحب کو علم وفضل سے نوازا ہو اتھا۔قرآن کریم کاعلم تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پر عبور حاصل تھا پھر بھی اپنی تصنیف کا مسودہ اور ہر تقریر کا مضمون حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہان پوری کو ضرور سُنا لیا کرتے اور اُن کی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے۔میں نے دیکھا اُس وقت آپ حضرت حافظ صاحب کے سامنے ایسے بیٹھے ہوئے ہوتے جس طرح ایک ادنیٰ شاگرد اپنے استاد کے سامنے۔عربی اور فارسی کے قدیم اور جدید شعراء کے کلام کا اکثر و بیشتر حصہ اُن کو زبانی یاد تھا۔ہر موقعہ اور مضمون کی مناسبت کے لحاظ سے عربی کے کئی کئی شعر سُنا دیتے۔اللہ تعالیٰ نے شمس صاحب کو آخری عمر میں مالی خوشحالی دی ہوئی تھی مگر عادات اور لباس میں وہی سادگی رہی جو ابتدائے عمر میں تھی۔لباس ہمیشہ سفید پگڑی ،سفید شلوار، اچکن اور پاؤں میں گرگابی۔کبھی بوٹ پہنے اُن کو نہیں دیکھا گیا۔گھر میں جو بھی پکتا خواہ سادہ سے سادہ غذا پیش کر دی جاتی خوشی سے کھا لیتے۔کھانے میں کبھی کوئی نقص نہ نکالتے اپنی اہلیہ کی بڑی عزت کرتے اور بچوں سے بڑی محبت سے پیش آتے۔خود مریض تھے مگر اپنی تکلیف کا اظہار کبھی نہ کرتے۔جب کبھی آپ کی اہلیہ صاحبہ یا کسی بچے کو کوئی تکلیف ہوتی تو بے قرار ہو جاتے اور فوراً انہیں ہسپتال لے جاتے یا خود ہسپتال جا کر دوائی لا دیتے۔خاکسار راقم الحروف نے حضرت مولانا صاحب کو پہلی بار اگست 1918ء میں دیکھا جب کہ آپ نے جوانی میں ابھی قدم رکھا تھا۔جسم دبلا پتلا چہرہ گورا چٹا نہایت خوبصورت ، ٹھوڑی پر ابھی بہت کم بال آئے تھے۔جتنے بھی تھے سیاہ باریک اور گھونگر والے تھے۔آپ مسجد اقصیٰ ( قادیان) کے صحن میں کھڑے تھے اور ارد گر دلوگ تھے غالباً کسی احمدی عالم کے ساتھ اگلے دن مناظرہ کے لئے باہر جانا تھا۔اردگر دکھڑے ہونے والے اصحاب