حیات شمس

by Other Authors

Page 613 of 748

حیات شمس — Page 613

حیات بشمس۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 581 توفیق عطا فرمائے۔آمین۔( محررہ یکم مئی 2010ء۔حاصل کردہ مکرم منیر الدین صاحب شمس) قبولیت دعا مکرم سراج الدین از مراد وال ہر یا حال کھاریاں ضلع گجرات) شروع 1961ء میں بندہ زندگی اور موت کی کشمکش میں گرفتار تھا۔بار بارخدا تعالیٰ کے حضور نہایت ہی بیقراری سے درد بھری دعائیں کی گئیں کہ یہ موت کا پیالہ ٹل جائے مگر بار بار یہی معلوم ہوا کہ یہ تقدیر ائل ہے اور ماہ اپریل میں جسم و جان کا رشتہ منقطع ہو جائے گا۔یہی بے چینی اور پریشانی مجلس مشاورت میں لے گئی کہ شاید در دمنت کشِ دوا ہو سکے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ایک دن صبح جب حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس نماز فجر پڑھا کر مسجد مبارک سے باہر نکلنے لگے، بندہ نے ایک چٹ پر اشارہ اپنی روداد غم لکھ کر پیش کر دی۔آپ پلیٹے اور نمازیوں سے فرمایا کہ یہ صاحب ایک مصیبت زدہ ہیں ان کیلئے دعا کریں۔جو نہی دعا شروع ہوئی میرے دل پر سکینت نازل ہونے لگی اور چندلمحوں تک دل ایسا مطمئن تھا کہ گویا کبھی کوئی پریشانی ہی نہیں مگر دُعا ابھی تک جاری تھی جس نے اتنا طول پکڑا کہ یہ عاجز تھک گیا اور اپنے لئے دُعا کرنے کی بجائے آنحترم کے حق میں قربان ہو ہو کر از خود دل سے دعائیں نکلنے لگیں۔آخر دعا ختم ہوئی اور مجھے قبولیت دعا کی خوش خبری اور مبارک دی گئی۔الحمد للہ۔غرض تجربہ کی آنکھوں سے دیکھا که واقعی نگاه مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں اگر چہ دم بھر میں قبولیت دعا اپنی جگہ ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے مگر محیر العقول یہ امر ہے کہ مادی محرکات کا شائبہ تک نہ ہو پھر بھی دل اس قدر تڑپ اُٹھے کہ پکھل کر آستانہ بے نیاز سے بہہ نکلے کہ پروانہ قبولیت لے کر ہی لوٹے۔صاحب تجربہ احباب بلکہ ہر احمدی خوب جانتا ہے کہ مرنا اور دُعا کرنا برا بر ہے اور غیر ہوکر غیر پر مرنا محال بلکہ ناممکن امر ہے۔چنانچہ دعا کرنے اور کرانے کیلئے کچھ تعلق پیدا کرنے کی ضرورت مسلم ہے لیکن میرا آں محترم کے ساتھ کوئی ذرہ بھر بھی تعلق اور واسطہ نہ تھا۔غالباً پیشتر ازیں وہ میرے نام اور شکل وصورت تک سے ناواقف تھے مگر بایں ہمہ اُن کا دل اس قدر کیوں بے چین ہو گیا کہ ایک اجنبی کی تشویش کو دور کرنے کیلئے مرنا قبول کیا؟ میرے لئے یہ ایک عجیب ترین اور عظیم ترین واقعہ ہے جب بھی میں غور کرتا ہوں حیران و ششدر رہ جاتا ہوں کہ یہ عاشق کون سی دنیا کے یارب رہنے والے ہیں لہذا