حیات شمس — Page 612
۔خالد احمدیت حضرت مولا نا جلال الدین شمس 580 فرماتے۔ہمارے اکثر رشتہ داروں کو اس دن کا علم ہوتا تھا اور سب ہمارے گھر میں اکٹھے ہو جاتے اور ہمارے گھر میں بہت رونق ہوتی۔پھر یہاں سوال و جواب ہوتے جس سے احباب بہت مستفیض ہوتے۔آپ خاص کر خلافت سے وابستگی کی تلقین فرماتے۔اکثر جماعت کی خواہش کا احترام فرماتے ہوئے مغرب کی نماز احمد نگر پڑھاتے اور بعد ادا ئیگی نماز احباب جماعت کو نصائح فرماتے۔اس طرح احباب جماعت احمد نگر بھی مستفیض ہوتے رہے۔اس موقع پر یہ بھی اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے بہت عزیز رشتہ دار ہمارے گھر ربوہ سے آتے رہتے تھے۔خصوصاً حضرت مولانا جلال الدین شمس کے بڑے بیٹے ڈاکٹر صلاح الدین صاحب شمس بھی احمد نگر تشریف لایا کرتے تھے۔احباب جماعت بہت محبت سے ملتے اور کئی دوستوں نے اظہار کیا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے والد صاحب کا عکس ہیں۔ماشاء اللہ شکل وصورت ، داڑھی، قد کاٹھ ہو بہووالد محترم کی طرح تھا۔ایک دفعہ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ آپ کبھی والد صاحب سے ناراض ہو کر اپنے بھائی یا والدین کے پاس گئی ہیں۔( میں نے کبھی والد صاحب اور والدہ کو اپنی زندگی میں ناراض ہوتے نہیں دیکھا ) اس پر والدہ کا جواب کچھ یوں تھا کہ: ایک معمولی بات پر ناراض ہو کر قادیان سے سیکھواں پیدل شدید گرمی میں دن کے دو بجے بھائی حضرت مولانا شمس صاحب کے پاس پہنچی۔دروازہ کھٹکھٹایا تو بھائی نے دروازہ کھولا۔جب بھائی نے مجھے اکیلے دیکھا تو پوچھا تم اکیلی آئی ہو؟ محمد حسین (میرے والد ) ساتھ نہیں آیا۔اس پر امی نے کہا کہ دروازہ پر ہی سوال شروع کر دیئے اندر تو آنے دیں۔بھائی سمجھ گئے کہ میں ناراض ہو کر آئی ہوں۔اندر گئے، پانی پلایا اور کھانے کا کہا۔میں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور بھائی نے مجھے سمجھایا کہ جب آپ کی رخصتی ہوئی تھی تو آپ کو ایک بات سمجھائی تھی کہ اب آپ کے سرال ہی والدین ہیں۔اُن کی عزت کریں اور ہمارے گھر ناراض ہو کر نہیں آنا بلکہ خوشی خوشی اکٹھے آیا کریں اور میں اسی حالت میں واپس لوٹ آئی۔یہ بھی ذکر کر دوں کہ بھائی میرے پیچھے پیچھے کافی فاصلہ پر رہتے ہوئے مجھے گھر چھوڑ کر واپس چلے آئے۔اس میں والدہ صاحب نے کہا کہ میرے لئے نصیحت تھی اور ساری زندگی ہم خوش و خرم رہے کبھی ناراض نہیں ہوئی۔واقعات تو بہت ہیں محترم منیر الدین شمس صاحب کی تحریک پر جلدی میں یہ تحریر لکھ دی تاکہ میں بھی ثواب میں شامل ہو جاؤں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ماموں حضرت مولا نائٹس صاحب کو جن پر ہم سب کو ہمیشہ فخر رہیگا، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہم سب کو آپ کی خوبیاں اور نیکیاں اپنانے کی